سُرَيْجُ بْنُ النُّعْمَانِ ، بَقِيَّةُ ، مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ الْأَلْهَانِيِّ ، أَبُو عِنَبَةَ
حَدَّثَنَا سُرَيْجُ بْنُ النُّعْمَانِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ الْأَلْهَانِيِّ ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو عِنَبَةَ ، قَالَ سُرَيْجٌ: وَلَهُ صُحْبَةٌ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا أَرَادَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ بِعَبْدٍ خَيْرًا"، عَسَلَهُ، قِيلَ: وَمَا عَسَلُهُ؟ قَالَ:" يَفْتَحُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لَهُ عَمَلًا صَالِحًا قَبْلَ مَوْتِهِ، ثُمَّ يَقْبِضُهُ عَلَيْهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو عنبہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا اللہ تعالیٰ جب کسی بندے کے ساتھ خیر کا ارادہ فرما لیتا ہے تو اسے عسل کردیتا ہے کسی نے پوچھا کہ عسل سے کیا مراد ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ مرنے سے پہلے اس کے لئے عمل صالح کے دروازے کھول دیتا ہے، پھر اس پر اس کی روح قبض کرلیتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17784]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، بقية بن الوليد ضعيف يعتبر به فى المتابعات والشواهد، وأبو عنبة مختلف فى صحبته
الحكم: صحيح لغيره، بقية بن الوليد ضعيف يعتبر به فى المتابعات والشواهد، وأبو عنبة مختلف فى صحبته