عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ ، مُوسَى ، أَبِي ، عَمْرَو بْنَ الْعَاصِ
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُوسَى ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي ، يَقُولُ: سَمِعْتُ عَمْرَو بْنَ الْعَاصِ يَخْطُبُ النَّاسَ بِمِصْرَ، يَقُولُ:" مَا أَبْعَدَ هَدْيَكُمْ مِنْ هَدْيِ نَبِيِّكُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَمَّا هُوَ، فَكَانَ أَزْهَدَ النَّاسِ فِي الدُّنْيَا، وَأَمَّا أَنْتُمْ فَأَرْغَبُ النَّاسِ فِيهَا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ نے ایک مرتبہ مصر میں خطبہ دیتے ہوئے لوگوں سے فرمایا کہ تم اپنے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے طریقے سے کتنے دور چلے گئے ہو؟ وہ دنیا سے انتہائی بےرغبت تھے اور تم دنیا کو انتہائی محبوب و مرغوب رکھتے ہو۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17773]
الحكم: إسناده صحيح