مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، وَحَجَّاجٌ ، شُعْبَةُ ، عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، رَجُلٍ ، عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، وَحَجَّاجٌ ، قَالَا: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَهْلِ مِصْرَ يُحَدِّثُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ أَنَّهُ، قَالَ: أُسِرَ مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، فَأَبَى قَالَ: فَجَعَلَ عَمْرٌو يَسْأَلُهُ يُعْجِبُهُ أَنْ يَدَّعِيَ أَمَانًا، قَالَ: فَقَالَ عَمْرٌو: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يُجِيرُ عَلَى الْمُسْلِمِينَ أَدْنَاهُمْ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ محمد بن ابی بکر قیدی بنا کر لائے گئے، عمرو نے ان سے سوالات پوچھنا شروع کردیئے، ان کی خواہش تھی کہ وہ ان سے امان طلب کریں، چنانچہ وہ کہنے لگے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے تمام مسلمانوں کے سامنے ایک ادنیٰ مسلمان بھی کسی کو پناہ دے سکتا ہے (اور پھر اس کی حفاظت تمام مسلمانوں کی ذمہ داری ہوگی)۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17765]
حکم دارالسلام
المرفوع منه صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة الرجل المصري
الحكم: المرفوع منه صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة الرجل المصري