يَزِيدُ هَوَ ابْنُ هَارُونَ ، إِسْمَاعِيلُ يَعْنِي ابْنَ أَبِي خَالِدٍ ، يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ ، الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ هَوَ ابْنُ هَارُونَ ، أَنْبَأَنَا إِسْمَاعِيلُ يَعْنِي ابْنَ أَبِي خَالِدٍ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ ، عَنِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ قُرَيْشًا إِذَا لَقِيَ بَعْضُهَا بَعْضًا، لَقُوهُمْ بِبِشْرٍ حَسَنٍ، وَإِذَا لَقُونَا لَقُونَا بِوُجُوهٍ لَا نَعْرِفُهَا، قَالَ: فَغَضِبَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَضَبًا شَدِيدًا، وَقَالَ:" وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، لَا يَدْخُلُ قَلْبَ رَجُلٍ الْإِيمَانُ حَتَّى يُحِبَّكُمْ لِلَّهِ وَلِرَسُولِهِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا: یا رسول اللہ! قریش کے لوگ جب ایک دوسرے سے ملتے ہیں تو بڑے ہشاش بشاش چہرے کے ساتھ ملتے ہیں، اور جب ہم سے ملتے ہیں تو اجنبیوں کی طرح؟ اس پر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سخت ناراض ہوئے اور فرمایا: ”اس ذات کی قسم! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے، کسی شخص کے دل میں اس وقت تک ایمان داخل نہیں ہو سکتا جب تک کہ وہ تم سے اللہ اور اس کے رسول کی خاطر محبت نہ کرنے لگے۔“ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 1772]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف، يزيد بن أبى زياد ضعيف.
الحكم: إسناده ضعيف، يزيد بن أبى زياد ضعيف.