عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، الزُّهْرِيِّ ، عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، سُرَاقَةَ بْنِ مَالِكٍ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عن سُرَاقَةَ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّهُ جَاءَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي وَجَعِهِ، فَقَالَ: أَرَأَيْتَ الضَّالَّةَ تَرِدُ عَلَى حَوْضِ إِبِلِي، هَلْ لِي أَجْرٌ أَنْ أَسْقِيَهَا؟ فَقَالَ:" نَعَمْ، فِي الْكَبِدِ الْحَرَّى أَجْرٌ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت سراقہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے مرض الوفات میں حاضر خدمت ہوا، میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے سوالات پوچھنا شروع کردیئے، حتی کہ میرے پاس سوالات ختم ہوگئے تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کچھ اور یاد کرلو، ان سوالات میں سے ایک سوال میں نے یہ بھی پوچھا تھا کہ یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم وہ بھٹکے ہوئے اونٹ جو میرے حوض پر آئیں تو کیا مجھے ان کو پانی پلانے پر اجروثواب ملے گا؟ جبکہ میں نے وہ پانی اپنے اونٹوں کے لئے بھرا ہو، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ہاں! ہر تر جگر رکھنے والے میں اجروثواب ہے۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17588]
الحكم: إسناده صحيح