أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ ، حَبِيبِ بْنِ أَبِي عَمْرَةَ ، الْمِنْهَالِ بْنِ عَمْرٍو ، يَعْلَى
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي عَمْرَةَ ، عَنْ الْمِنْهَالِ بْنِ عَمْرٍو ، عن يَعْلَى ، قَالَ: مَا أَظُنُّ أَنَّ أَحَدًا مِنَ النَّاسِ رَأَى مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا دُونَ مَا رَأَيْتُ، فَذَكَرَ أَمْرَ الصَّبِيِّ، وَالنَّخْلَتَيْنِ، وَأَمْرَ الْبَعِيرِ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: " مَا لِبَعِيرِكَ يَشْكُوكَ، زَعَمَ أَنَّكَ سَنَأْتَهُ، حَتَّى إِذَا كَبُرَ تُرِيدُ أَنْ تَنْحَرَهُ" قَالَ: صَدَقْتَ، وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ نَبِيًّا، قَدْ أَرَدْتُ ذَلِكَ، وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ لَا أَفْعَلُ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت یعلی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نہیں سمجھتا کہ کسی شخص نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ایسے معجزات دیکھے ہوں جو میں نے دیکھے ہیں، پھر انہوں نے بچے درختوں اور اونٹ کے واقعات بیان کئے، البتہ اس میں یہ بھی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کیا بات ہے تمہارا اونٹ تمہاری شکایت کر رہا ہے کہ تم پہلے اس پر پانی لاد کر لاتے تھے، جب یہ بوڑھا ہوگیا تو اب تم اسے ذبح کرنا چاہتے ہو؟ اس نے کہا کہ آپ صحیح فرما رہے ہیں، اس ذات کی قسم جس نے آپ کو نبی بنا کر بھیجا ہے، میرا یہی ارادہ تھا لیکن اب میں ایسا نہیں کروں گا۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17567]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لانقطاعه، المنهال بن عمرو لم يسمع من يعلى بن مرة
الحكم: إسناده ضعيف لانقطاعه، المنهال بن عمرو لم يسمع من يعلى بن مرة