عَفَّانُ ، وُهَيْبٌ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ ، سَعِيدِ بْنِ أَبِي رَاشِدٍ ، يَعْلَى لْعَامِرِيِّ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي رَاشِدٍ ، عن يَعْلَى لْعَامِرِيِّ ، أَنَّهُ جَاءَ حَسَنٌ، وَحُسَيْنٌ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُمَا يَسْتَبِقَانِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَضَمَّهُمَا إِلَيْهِ، وَقَالَ: " إِنَّ الْوَلَدَ مَبْخَلَةٌ مَجْبَنَةٌ، وَإِنَّ آخِرَ وَطْأَةٍ وَطِئَهَا الرَّحْمَنُ عَزَّ وَجَلَّ بِوَجٍّ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت یعلی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرات حسنین رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس دوڑتے ہوئے آئے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انہیں سینے سے لگا لیا اور فرمایا اولاد بخل اور بزدلی کا سبب بن جاتی ہے اور وہ آخری پکڑ جو رحمان نے کفار کی فرمائی، وہ مقام وج میں تھی۔ فائدہ: وج طائف کے ایک علاقے کا نام تھا جس کے بعد نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کوئی غزوہ نہیں فرمایا۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17562]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لجهالة سعيد بن أبى راشد
الحكم: إسناده ضعيف لجهالة سعيد بن أبى راشد