بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

مسند احمد

حدیث نمبر: 17518
کتب مسند احمد ابواب باب حدیث 17518
حدیث نمبر: 17518 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، ابْنُ مُبَارَكِ ، يُونُسَ ، الزُّهْرِيِّ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ نَوْفَلٍ ، عَبْدِ الْمُطَّلِبِ بْنِ رَبِيعَةَ بْنِ الْحَارِثِ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ مُبَارَكِ ، عَنْ يُونُسَ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ نَوْفَلٍ ، عن عَبْدِ الْمُطَّلِبِ بْنِ رَبِيعَةَ بْنِ الْحَارِثِ ، أَنَّهُ هُوَ وَالْفَضْلُ أَتَيَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِيُزَوِّجَهُمَا وَيَسْتَعْمِلَهُمَا عَلَى الصَّدَقَةِ، فَيُصِيبَانِ مِنْ ذَلِكَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ هَذِهِ الصَّدَقَةَ إِنَّمَا هِيَ أَوْسَاخُ النَّاسِ، وَإِنَّهَا لَا تَحِلُّ لِمُحَمَّدٍ وَلَا لِآلِ مُحَمَّدٍ". ثُمَّ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِمَحْمِيَةَ الزُّبَيْدِيِّ:" زَوِّجْ الْفَضْلَ"، وَقَالَ لِنَوْفَلِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ:" زَوِّجْ عَبْدَ الْمُطَّلِبِ بْنَ رَبِيعَةَ"، وَقَالَ لِمَحْمِيَةَ بْنِ جَزْءٍ الزُّبَيْدِيِّ وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتَعْمِلُهُ عَلَى الْأَخْمَاسِ، فَأَمَرَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصْدِقُ عَنْهُمَا مِنَ الْخُمُسِ شَيْئًا لَمْ يُسَمِّهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحَارِثِ . وَفِي أَوَّلِ هَذَا الْحَدِيثِ أَنَّ عَلِيًّا لَقِيَهُمَا فَقَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَسْتَعْمِلُكُمَا. فَقَالَا: هَذَا حَسَدُكَ. فَقَالَ: أَنَا أَبُو حَسَنِ الْقَوْمِ، لَا أَبْرَحُ حَتَّى أَنْظُرَ مَا يَرُدُّ عَلَيْكُمَا. فَلَمَّا كَلَّمَاهُ سَكَتَ، فَجَعَلَتْ زَيْنَبُ تُلَوِّحُ بِثَوْبِهَا إِنَّهُ فِي حَاجَتِكُمَا.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عبدالمطلب بن ربیعہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ وہ اور فضل نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تاکہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ان کی شادی بھی کروا دیں اور انہیں زکوٰۃ وصول کرنے کے لئے مقرر کردیں تاکہ انہیں بھی کچھ مل جائے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ یہ صدقات لوگوں کے مال کا میل کچیل ہوتے ہیں اس لئے محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور آل محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے لئے حلال نہیں ہے۔ پھر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے محمیہ زبیدی سے فرمایا کہ اپنی بیٹی کا نکاح فضل سے کردو اور نفول بن حارث سے فرمایا کہ تم اپنی بیٹی کا نکاح عبدالمطلب بن ربیعہ سے کردو، پھر محمیہ جنہیں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے خمس پر مقرر فرما رکھا تھا سے فرمایا کہ انہیں خمس میں سے اتنے پیسے دے دو کہ یہ مہر ادا کرسکیں اور اس حدیث کے آغاز میں یہ تفصیل بھی ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کی ان دونوں سے ملاقات ہوئی تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تمہیں کبھی بھی زکوٰۃ وصول کرنے کے لئے مقرر نہیں فرمائیں گے، وہ کہنے لگے کہ یہ تمہارا حسد ہے، انہوں نے فرمایا کہ میں ابو حسن ہوں، میری رائے مقدم ہوتی ہے، میں اس وقت تک واپس نہیں جاؤں گا جب تک یہ نہ دیکھ لوں کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تمہیں کیا جواب دیتے ہیں؟ چنانچہ جب ان دونوں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے بات کی تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم خاموش ہوگئے اور حضرت زینت رضی اللہ عنہ اپنے کپڑے کو ہلا کر اشارہ کرنے لگیں کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تمہارا کام کردیں گے۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17518]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1072
الحكم: إسناده صحيح، م: 1072
← پچھلی حدیث (17517) باب پر واپس اگلی حدیث (17519) →