عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو ، زُهَيْرٌ يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ ، عَبْدِ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ ، عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، أَبِي مَالِكٍ الْأَشْجَعِيِّ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو ، قَالَ: حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي مَالِكٍ الْأَشْجَعِيِّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " أَعْظَمُ الْغُلُولِ عِنْدَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ ذِرَاعٌ مِنَ الْأَرْضِ، تَجِدُونَ الرَّجُلَيْنِ جَارَيْنِ فِي الْأَرْضِ أَوْ فِي الدَّارِ، فَيَقْتَطِعُ أَحَدُهُمَا مِنْ حَظِّ صَاحِبِهِ ذِرَاعًا، فَإِذَا اقْتَطَعَهُ طُوِّقَهُ مِنْ سَبْعِ أَرَضِينَ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو مالک اشجعی رضی اللہ عنہ سے مری ہے کہ حضور نبی مکرم، سرور دو عالم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا اللہ کے نزدیک سب سے زیادہ عطیم خیانت زمین کے گز میں خیانت ہے، تم دیکھتے ہو کہ دو آدمی ایک زمین یا ایک گھر میں پڑوسی ہیں لیکن پھر بھی ان میں سے ایک اپنے ساتھی کے حصے میں سے ایک گز ظلما لے لیتا ہے، ایسا کرنے والے کو قیامت کے دن ساتوں زمینوں سے اس حصے کا طوق بنا کر گلے پہنایا جائے گا۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17255]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لضعف عبدالله بن محمد
الحكم: إسناده ضعيف لضعف عبدالله بن محمد