مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، أَبُو كَثِيرٍ مَوْلَى اللَّيْثِيِّينَ ، مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَحْشٍ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو كَثِيرٍ مَوْلَى اللَّيْثِيِّينَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَحْشٍ أَنَّ رَجُلًا جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَاذَا لِي إِنْ قُتِلْتُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ؟ قَالَ: " الْجَنَّةُ"، فَلَمَّا وَلَّى، قَالَ:" إِلَّا الدَّيْنُ، سَارَّنِي بِهِ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام آنِفًا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عبداللہ بن جحش رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اگر میں اللہ کے راستہ میں شہید ہوجاؤں تو مجھے کیا ملے گا؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جنت، جب وہ واپس جانے کے لئے مڑا تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا سوائے قرض کے، کہ یہ بات ابھی ابھی مجھے حضرت جبرائیل (علیہ السلام) نے بتائی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17253]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناده ضعيف
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناده ضعيف