يَزِيدُ ، شَرِيكُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، أَبِي إِسْحَاقَ ، أَبِي الْأَحْوَصِ ، أَبِيهِ
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا شَرِيكُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلَيَّ شَمْلَةٌ أَوْ شَمْلَتَانِ، فَقَالَ لِي:" هَلْ لَكَ مِنْ مَالٍ؟" قُلْتُ: نَعَمْ، قَدْ آتَانِي اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ مِنْ كُلِّ مَالِهِ مِنْ خَيْلِهِ، وَإِبِلِهِ، وَغَنَمِهِ، وَرَقِيقِهِ، فَقَالَ: " فَإِذَا آتَاكَ اللَّهُ مَالًا، فَلْيَرَ عَلَيْكَ نِعْمَتَهُ" ، فَرُحْتُ إِلَيْهِ فِي حُلَّةٍ..
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوالاحوص رضی اللہ عنہ کے والد سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھے پراگندہ حال میں دیکھا تو پوچھا کہ کیا تمہارے پاس کچھ مال و دولت ہے؟ میں نے عرض کیا جی ہاں! نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کس قسم کا مال ہے؟ میں نے عرض کیا کہ اللہ نے مجھے ہر قسم کا مال مثلا بکریاں اور اونٹ وغیرہ عطاء فرما رکھے ہیں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا پھر اللہ کی نعمتوں اور عزتوں کا اثر تم پر نظر آنا چاہیے چنانچہ شام کو میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حلہ پہن کر حاضر ہوا۔ گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17229]
حکم دارالسلام
حديث صحيح ، شريك بن عبدالله سيئ الحفظ، لكنه توبع
الحكم: حديث صحيح ، شريك بن عبدالله سيئ الحفظ، لكنه توبع