حَسَنُ بْنُ مُوسَى ، قَزَعَةُ ، حُمَيْدٌ الْأَعْرَجُ ، الزُّهْرِيِّ ، مَحْمُودِ بْنِ لَبِيدٍ ، شَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ
حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا قَزَعَةُ ، قَالَ: حَدَّثَنِي حُمَيْدٌ الْأَعْرَجُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ مَحْمُودِ بْنِ لَبِيدٍ ، عَنْ شَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا حَضَرْتُمْ مَوْتَاكُمْ، فَأَغْمِضُوا الْبَصَرَ، فَإِنَّ الْبَصَرَ يَتْبَعُ الرُّوحَ، وَقُولُوا خَيْرًا فَإِنَّهُ يُؤَمَّنُ عَلَى مَا قَالَ أَهْلُ الْمَيِّتِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا شداد بن اوس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جب تم اپنے مردوں کے پاس جاؤ تو ان کی آنکھیں بند کر دیا کرو کیونکہ آنکھیں روح کا پیچھا کرتی ہیں (اس لیے کھلی رہ جاتی ہیں) اور خیر کی بات کہا کرو اس لیے کہ میت کے گھرانے والے جو کچھ کہتے ہیں اس پر (فرشتوں کی طرف سے) آمین کہی جاتی ہے۔“ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17136]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف قزعة
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف قزعة