يَزِيدُ ، صَدَقَةُ بْنُ مُوسَى ، أَبِي عِمْرَانَ الْجَوْنِيِّ ، قَيْسِ بْنِ زَيْدٍ ، شُرَيْحٌ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ
(حديث قدسي) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَنْبَأَنَا صَدَقَةُ بْنُ مُوسَى ، عَنْ أَبِي عِمْرَانَ الْجَوْنِيِّ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ قَاضِي الْمِصْرَيْنِ وَهُوَ شُرَيْحٌ , وَالْمِصْرَانِ: الْبَصْرَةُ , وَالْكُوفَةُ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَيَدْعُو بِصَاحِبِ الدَّيْنِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، فَيُقِيمُهُ بَيْنَ يَدَيْهِ، فَيَقُولُ أَيْ عَبْدِي، فِيمَ أَذْهَبْتَ مَالَ النَّاسِ؟ فَيَقُولُ أَيْ رَبِّ؟ قَدْ عَلِمْتَ، أَنِّي لَمْ أُفْسِدْهُ، إِنَّمَا ذَهَبَ فِي غَرَقٍ، أَوْ حَرَقٍ أَوْ سَرِقَةٍ أَوْ وَضِيعَةٍ، فَيَدْعُو اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ بِشَيْءٍ فَيَضَعُهُ فِي مِيزَانِهِ، فَتَرْجَحُ حَسَنَاتُهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا عبدالرحمن بن ابی بکر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اللہ تعالیٰ قیامت کے دن مقروض کو بلا کر اپنے سامنے کھڑا کریں گے اور اس سے پوچھیں گے کہ ”بندے! تو نے لوگوں کا مال کہاں اڑایا؟“ وہ عرض کرے گا: پروردگار! آپ تو جانتے ہیں کہ میں نے اسے یونہی برباد نہیں کیا، بلکہ وہ تو سمندر میں ڈوب کر، جل کر، چوری ہو کر یا ٹیکسوں کی ادائیگی میں ضائع ہو گیا۔ یہ سن کر اللہ تعالیٰ کوئی چیز منگوا کر اس کے میزان عمل میں رکھ دیں گے جس سے اس کی نیکیوں کا پلڑا بھاری ہو کر جھک جائے گا۔“ [مسند احمد/ مسند الصحابة بعد العشرة/حدیث: 1707]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف، صدقة بن موسي ضعيف وقيس بن زيد مجهول.
الحكم: إسناده ضعيف، صدقة بن موسي ضعيف وقيس بن زيد مجهول.