بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

مسند احمد

حدیث نمبر: 1698
کتب مسند احمد ابواب باب حدیث 1698
حدیث نمبر: 1698 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، دَاوُدَ ، عَامِرٍ ، أَبُو عُبَيْدَةَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ دَاوُدَ ، عَنْ عَامِرٍ ، قَالَ: بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَيْشَ ذَاتِ السُّلَاسِلِ، فَاسْتَعْمَلَ أَبَا عُبَيْدَةَ عَلَى الْمُهَاجِرِينَ، وَاسْتَعْمَلَ عَمْرَو بْنَ الْعَاصِ عَلَى الْأَعْرَابِ، فَقَالَ لَهُمَا: تَطَاوَعَا، قَالَ: وَكَانُوا يُؤْمَرُونَ أَنْ يُغِيرُوا عَلَى بَكْرٍ، فَانْطَلَقَ عَمْرٌو، فَأَغَارَ عَلَى قُضَاعَةَ لِأَنَّ بَكْرًا أَخْوَالُهُ، فَانْطَلَقَ الْمُغِيرَةُ بْنُ شُعْبَةَ إِلَى أَبِي عُبَيْدَةَ، فَقَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْتَعْمَلَكَ عَلَيْنَا، وَإِنَّ ابْنَ فُلَانٍ قَدْ ارْتَبَعَ أَمْرَ الْقَوْمِ وَلَيْسَ لَكَ مَعَهُ أَمْرٌ، فَقَالَ أَبُو عُبَيْدَةَ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" أَمَرَنَا، أَنْ نَتَطَاوَعَ، فَأَنَا أُطِيعُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَإِنْ عَصَاهُ عَمْرٌو".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
امام شعبی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے جب جیش ذات السلاسل کو روانہ فرمایا تو سیدنا ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ کو مہاجرین پر اور سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کو دیہاتیوں پر امیر مقرر فرمایا، اور دونوں سے فرمایا کہ ایک دوسرے کی بات ماننا، راوی کہتے ہیں کہ انہیں بنو بکر پر حملہ کرنے حکم دیا گیا تھا لیکن سیدنا عمرو رضی اللہ عنہ نے بنو قضاعہ پر حملہ کر دیا کیونکہ بنو بکر سے ان کی رشتہ داری بھی تھی، یہ دیکھ کر سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے سیدنا ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ کے پاس آکر کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے آپ کو ہم پر امیر مقرر کر کے بھیجا ہے جبکہ فلاں کا بیٹا لوگوں کے معاملات پر غالب آگیا ہے اور محسوس ایسا ہوتا ہے کہ آپ کا حکم نہیں چلتا؟ سیدنا ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہمیں ایک دوسرے کی بات ماننے کا حکم دیا تھا، میں تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے حکم کی پیروی کرتا رہوں گا، خواہ عمرو نہ کریں۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ بَاقِي الْعَشَرَةِ الْمُبَشَّرِينَ بِالْجَنَّةِ/حدیث: 1698]
حکم دارالسلام
رجاله ثقات إلا أنه مرسل.
الحكم: رجاله ثقات إلا أنه مرسل.
← پچھلی حدیث (1697) باب پر واپس اگلی حدیث (1699) →