بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

مسند احمد

حدیث نمبر: 16964
کتب مسند احمد ابواب باب حدیث 16964
حدیث نمبر: 16964 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
أَبُو الْمُغِيرَةِ ، أَرْطَاةُ يَعْنِي ابْنَ الْمُنْذِرِ ، ضَمْرَةُ بْنُ حَبِيبٍ ، سَلَمَةُ بْنُ نُفَيْلٍ السَّكُونِيُّ
حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَرْطَاةُ يَعْنِي ابْنَ الْمُنْذِرِ ، حَدَّثَنَا ضَمْرَةُ بْنُ حَبِيبٍ ، قَالَ: سَمِعَتُ سَلَمَةُ بْنُ نُفَيْلٍ السَّكُونِيُّ ، قَالَ: كُنَّا جُلُوسًا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْ قَالَ قَائِلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَلْ أُتِيتَ بِطَعَامٍ مِنَ السَّمَاءِ؟ قَالَ:" نَعَمْ"، قَالَ: وَبِمَاذَا؟ قَالَ:" بِمِسْخَنَةٍ"، قَالُوا: فَهَلْ كَانَ فِيهَا فَضْلٌ عَنْكَ؟ قَالَ:" نَعَمْ"، قَالَ: فَمَا فُعِلَ بِهِ؟ قَالَ: " رُفِعَ وَهُوَ يُوحَى إِلَيَّ أَنِّي مَكْفُوتٌ غَيْرُ لَابِثٍ فِيكُمْ، وَلَسْتُمْ لَابِثِينَ بَعْدِي إِلَّا قَلِيلًا، بَلْ تَلْبَثُونَ حَتَّى تَقُولُوا: مَتَى، وَسَتَأْتُونَ أَفْنَادًا يُفْنِي بَعْضُكُمْ بَعْضًا، وَبَيْنَ يَدَيْ السَّاعَةِ مُوتَانٌ شَدِيدٌ، وَبَعْدَهُ سَنَوَاتُ الزَّلَازِلِ"
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا سلمہ بن نفیل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ کسی شخص نے پوچھا: یا رسول اللہ! کیا آپ کے پاس بھی آسمان سے کھانا آیا ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ہاں، پوچھا: وہ کیا؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: آٹے سے تیار کیا ہوا کھانا، پوچھا: کیا اس میں سے کچھ باقی بھی بچا؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ہاں! پوچھا: وہ کیا ہوا؟ فرمایا: اسے اٹھا لیا گیا اور مجھ پر وحی بھیجی گئی ہے کہ میں تم سے رخصت ہونے والا ہوں اور زیادہ دیر تک تمہارے درمیان نہیں رہوں گا اور میرے بعد تم بھی کچھ عرصہ رہو گے بلکہ تم اتنا عرصہ رہو گے کہ کہنے لگو موت کب آئے گی؟ پھر تم پر ایسے مصائب آئیں گے کہ تم ایک دوسرے کو خود ہی فناء کر دو گے اور قیامت سے پہلے کثرت اموات کا نہایت شدید سلسلہ شروع ہو جائے گا اور اس کے بعد زلزلوں کے سال آئیں گے۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 16964]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف
الحكم: إسناده ضعيف
← پچھلی حدیث (16963) باب پر واپس اگلی حدیث (16965) →