حَمَّادُ بْنُ أُسَامَةَ ، هِشَامٌ ، أَبِيهِ ، بِتَمِيمٍ الدَّارِيِّ
حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ أُسَامَةَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا هِشَامٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: خَرَجَ عُمَرُ عَلَى النَّاسِ يَضْرِبُهُمْ عَلَى السَّجْدَتَيْنِ بَعْدَ الْعَصْرِ، حَتَّى مَرَّ بِتَمِيمٍ الدَّارِيِّ ، فَقَالَ: لَا أَدَعُهُمَا، صَلَّيْتُهُمَا مَعَ مَنْ هُوَ خَيْرٌ مِنْكَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ عُمَرُ: إِنَّ النَّاسَ لَوْ كَانُوا كَهَيْئَتِكَ لَمْ أُبَالي
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
عروہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نکلے اور نماز عصر کے بعد دو رکعتیں پڑھنے پر انہیں مارنے لگے، اسی اثناء میں وہ سیدنا تمیم داری رضی اللہ عنہ کے پاس سے گزرے، تو وہ کہنے لگے کہ میں تو ان دو رکعتوں کو نہیں چھوڑوں گا، کیونکہ میں نے یہ دو رکعتیں اس ذات کے ساتھ پڑھی ہیں جو آپ سے بہتر تھی (نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم )، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ فرمانے لگے: اگر باقی لوگوں کی بھی تمہارے جیسی کیفیت ہوتی تو مجھے کچھ پرواہ نہ ہوتی۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 16943]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لانقطاعه ، عروة لم يسمع عمر ولا تميمة، غير أنه قد ثبت أن عمر نهي عن الصلاة بعدالعصر
الحكم: إسناده ضعيف لانقطاعه ، عروة لم يسمع عمر ولا تميمة، غير أنه قد ثبت أن عمر نهي عن الصلاة بعدالعصر