يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، سُفْيَانَ ، سُهَيْلُ بْنُ أَبِي صَالِحٍ ، عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ ، تَمِيمٍ الدَّارِيِّ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ سُفْيَانَ ، قَالَ: حَدَّثَنِي سُهَيْلُ بْنُ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ تَمِيمٍ الدَّارِيِّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِنَّمَا الدِّينُ النَّصِيحَةُ، إِنَّمَا الدِّينُ النَّصِيحَةُ"، قِيلَ: لِمَنْ؟ قَالَ:" لِلَّهِ، وَلِرَسُولِهِ، وَلِكِتَابِهِ، وَلِأَئِمَّةِ الْمُسْلِمِينَ، وَعَامَّتِهِمْ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا تمیم داری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”دین تو سراسر خیر خواہی کا نام ہے“، صحابہ رضی اللہ عنہم نے پوچھا: یا رسول اللہ! کس کے لیے؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”اللّٰہ کے لئے، اس کی کتاب کے لئے، اس کے رسول کے لئے، مسلمانوں کے حکمرانوں کے لئے اور عام مسلمانوں کے لیے۔“ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 16941]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: قبل الحديث: 57 تعليقا ، م: 55
الحكم: إسناده صحيح، خ: قبل الحديث: 57 تعليقا ، م: 55