عَفَّانُ ، وَعَبْدُ الصَّمَدِ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، خَالِدٌ الْحَذَّاءُ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سُرَاقَةَ ، أَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ الْجَرَّاحِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ , وَعَبْدُ الصَّمَدِ ، قَالَا: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، أَنْبَأَنَا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سُرَاقَةَ ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ الْجَرَّاحِ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُولُ:" إِنَّهُ لَمْ يَكُنْ نَبِيٌّ بَعْدَ نُوحٍ إِلَّا وَقَدْ أَنْذَرَ الدَّجَّالَ قَوْمَهُ، وَإِنِّي أُنْذِرُكُمُوهُ"، قَالَ: فَوَصَفَهُ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ:" وَلَعَلَّهُ يُدْرِكُهُ بَعْضُ مَنْ رَآنِي، أَوْ سَمِعَ كَلَامِي"، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، كَيْفَ قُلُوبُنَا يَوْمَئِذٍ أَمِثْلُهَا الْيَوْمَ؟ قَالَ:" أَوْ خَيْرٌ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ”حضرت نوح علیہ السلام کے بعد ہر آنے والے نبی نے اپنی اپنی قوم کو دجال سے ڈرایا ہے، اور میں بھی تمہیں اس سے ڈرا رہا ہوں۔“ پھر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہمارے سامنے اس کی کچھ صفات بیان فرمائیں، اور فرمایا: ”ہو سکتا ہے کہ مجھے دیکھنے والا یا میری باتیں سننے والا کوئی شخص اسے پا لے۔“ لوگوں نے پوچھا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! اس وقت ہمارے دلوں کی کیفیت کیا ہوگی؟ کیا آج کی طرح ہوں گے؟ فرمایا: ”بلکہ اس سے بھی بہتر کیفیت ہوگی۔“ [مسند احمد/مُسْنَدُ بَاقِي الْعَشَرَةِ الْمُبَشَّرِينَ بِالْجَنَّةِ/حدیث: 1693]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف كسابقه.
الحكم: إسناده ضعيف كسابقه.