سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَمْرِو يَعَنِي بْنِ دِينَارٍ ، أَبِي نَجِيحٍ ، خَالِدِ بْنِ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ ، خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ عَمْرِو يَعَنِي بْنِ دِينَارٍ ، عَنِ أَبِي نَجِيحٍ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ ، قَالَ: تَنَاوَلَ أَبُو عُبَيْدَةَ رَجُلًا بِشَيْءٍ، فَنَهَاهُ خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ ، فَقَالَ: أَغْضَبْتَ الْأَمِيرَ، فَأَتَاهُ، فَقَالَ: إِنِّي لَمْ أُرِدْ أَنْ أُغْضِبَكَ، وَلَكِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " إِنَّ أَشَدَّ النَّاسِ عَذَابًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَشَدُّ النَّاسِ عَذَابًا لِلنَّاسِ فِي الدُّنْيَا"
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
خالد بن حکیم بن حزام کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ نے کسی شخص کو ایک چیز دی، حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے انہیں اس سے روکا، وہ کہنے لگے تم نے امیر المومنین کو ناراض کر دیا، پھر وہ ان کے پاس آئے اور کہنے لگے کہ میں نے آپ کو ناراض کرنے کا ارادہ نہیں کیا تھا، لیکن میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے، قیامت کے دن سب سے زیادہ سخت عذاب اس شخص کو ہوگا جس نے دنیا میں لوگوں کو سب سے زیادہ سخت سزا دی ہو گی۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 16819]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لانقطاعه، لأن خالد بن حكيم لم يوجد له سماع من أبى عبيدة وخالد بن الوليد
الحكم: إسناده ضعيف لانقطاعه، لأن خالد بن حكيم لم يوجد له سماع من أبى عبيدة وخالد بن الوليد