رَوْحٌ ، مَالِكٌ ، ابْنِ شِهَابٍ ، أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ ، وَخَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ
حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ ، وَخَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ ، أنهما دخلا مع رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْتَ مَيْمُونَةَ، فَأُتِيَ بِضَبٍّ مَحْنُوذٍ، فَأَهْوَى إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ بَعْضُ النِّسْوَةِ: أَخْبِرُوا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا يُرِيدُ أَنْ يَأْكُلَ، فَقَالَ: هُوَ ضَبٌّ يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَرَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَهُ، فَقُلْتُ: أَحَرَامٌ هُوَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: " لَا، وَلَكِنْ لَمْ يَكُنْ بِأَرْضِ قَوْمِي، فَأَجِدُنِي أَعَافُهُ" ، قَالَ خَالِدٌ: فَاجْتَرَرْتُهُ فَأَكَلْتُهُ، وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْظُرُ
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ اور ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ وہ دونوں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ ام المومنین حضرت میمونہ بنت حارث رضی اللہ عنہ جو ان کی خالہ تھیں کے گھر داخل ہوئے، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سامنے گوہ کا گوشت لا کر رکھا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس کی طرف ہاتھ بڑھایا یا آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی کسی زوجہ نے کہا کہ تم لوگ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو کیوں نہیں بتاتیں کہ وہ کیا کھا رہے ہیں؟ اس پر انہوں نے بتایا کہ یہ گوہ کا گوشت ہے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس چھوڑ دیا۔ حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میں نے پوچھا یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کیا یہ حرام ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا نہیں، لیکن یہ میری قوم کا کھانا نہیں ہے اس لئے میں اس سے احتیاط کرنا ہی بہتر سمجھتا ہوں، چنانچہ میں نے اسے اپنی طرف کھینچ لیا اور اسے کھانے لگا، دریں اثناء نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مجھے دیکھتے رہے۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 16813]
حکم دارالسلام
حديث صحيح ، خ: 5537، م: 1946
الحكم: حديث صحيح ، خ: 5537، م: 1946