عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ، أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ ، الزُّهْرِيِّ ، عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَزْهَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَزْهَرَ ، يَقُولُ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَزَاةَ يَوْمِ الْفَتْحِ، وَأَنَا غُلَامٌ شَابٌّ يَتَخَلَّلُ النَّاسَ" يَسْأَلُ عَنْ مَنْزِلِ خَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ، فَأُتِيَ بِشَارِبٍ، فَأَمَرَهُمْ، فَضَرَبُوهُ بِمَا فِي أَيْدِيهِمْ، فَمِنْهُمْ مَنْ ضَرَبَهُ بِعَصًا، وَمِنْهُمْ مَنْ ضَرَبَهُ بِسَوْطٍ، وَحَثَى عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ التُّرَابَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا عبدالرحمن بن ازہر سے مروی ہے کہ میں نے فتح مکہ کے دن نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو دیکھا کہ آپ لوگوں کے درمیان سے راستہ بنا کر گزرتے جارہے ہیں اور سیدنا خالد بن ولید کے ٹھکانے کا پتہ پوچھتے جارہے ہیں، تھوڑی ہی دیر میں ایک آدمی کو نشے کی حالت میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس لوگ لے آئے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنے ساتھ آنے والوں کو حکم دیا کہ ان کے ہاتھ میں جو کچھ ہے، وہ اسی سے اس شخص کو ماریں چنانچہ کسی نے اسے لاٹھی سے مارا اور کسی نے کوڑے سے اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس پر مٹی پھینکی۔ [مسند احمد/مسنَدِ المَدَنِیِّینَ رَضِیَ اللَّه عَنهم اَجمَعِینَ/حدیث: 16810]
حکم دارالسلام
حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف لانقطاعه، الزهري لم يسمع هذا الحديث من عبدالرحمن، وقد وهم أسامة بن زيد الليثي فى ذكره تصريح الزهري بسماعه من عبدالرحمن
الحكم: حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف لانقطاعه، الزهري لم يسمع هذا الحديث من عبدالرحمن، وقد وهم أسامة بن زيد الليثي فى ذكره تصريح الزهري بسماعه من عبدالرحمن