بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

مسند احمد

حدیث نمبر: 16807
کتب مسند احمد ابواب باب حدیث 16807
حدیث نمبر: 16807 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
عَفَّانُ ، ثَابِتُ بْنُ يَزِيدَ أَبُو زَيْدٍ ، عَاصِمٌ الْأَحْوَلُ ، فُضَيْلِ بْنِ زَيْدٍ الرَّقَاشِيِّ ، عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مُغَفَّلٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ثَابِتُ بْنُ يَزِيدَ أَبُو زَيْدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَاصِمٌ الْأَحْوَلُ ، عَنْ فُضَيْلِ بْنِ زَيْدٍ الرَّقَاشِيِّ ، وَقَدْ غَزَا سَبْعَ غَزَوَاتٍ فِي إِمارَةِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ، أَنَّهُ أَتَى عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مُغَفَّلٍ ، فَقَالَ: أَخْبِرْنِي بِمَا حَرَّمَ اللَّهُ عَلَيْنَا مِنْ هَذَا الشَّرَابِ، فَقَالَ: الْخَمْرَ، قَالَ: هَذَا فِي الْقُرْآنِ، قال: أَفَلَا أُحَدِّثُكَ ما سَمِعْتُ مُحَمَّدًا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ بَدَأَ بِالِاسْمِ، أَوْ بِالرِّسَالَةِ، قَالَ: شَرْعِي، أَنِّي اكْتَفَيْتُ؟!، قَالَ:" نَهَى عَنِ الدُّبَّاءِ، وَالْحَنْتَمِ، وَالنَّقِيرِ وَالْمُقَيَّرِ"، قَالَ: مَا الْحَنْتَمُ؟، قَالَ: الْأَخْضَرُ، وَالْأَبْيَضُ، قَالَ: مَا الْمُقَيَّرُ؟، قَالَ: مَا لُطِخَ بِالْقَارِ مِنْ زِقٍّ، أَوْ غَيْرِهِ، قَالَ: فَانْطَلَقْتُ إِلَى السُّوقِ، فَاشْتَرَيْتُ أَفِيقَةً، فَمَا زَالَتْ مُعَلَّقَةً فِي بَيْتِي.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
فضیل بن زید رقاشی کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم لوگ سیدنا عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ شراب کا تذکر ہ شروع ہو گیا اور سیدنا عبداللہ بن مغفل کہنے لگے کہ شراب حرام ہے، میں نے پوچھا: کیا کتاب اللہ میں اسے حرام قرار دیا گیا ہے؟ انہوں نے فرمایا: تمہارا مقصد کیا ہے؟ کیا تم یہ چاہتے ہو کہ میں نے اس سلسلے میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے جو سنا ہے وہ تمہیں بھی سناؤں؟ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو کدو، حنتم اور مزفت سے منع کرتے ہوئے سنا ہے، میں نے حنتم کا مطلب پوچھا: تو انہوں نے فرمایا کہ ہر سبز اور سفید مٹکا، میں نے مزفت کا مطلب پوچھا: تو فرمایا کہ لک وغیرہ سے بنا ہوا ہر برتن چنانچہ میں بازار گیا اور چمڑے کا بڑا ڈول خرید لیا اور وہی میرے گھر میں لٹکا رہا۔ [مسند احمد/مسنَدِ المَدَنِیِّینَ رَضِیَ اللَّه عَنهم اَجمَعِینَ/حدیث: 16807]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
← پچھلی حدیث (16806) باب پر واپس اگلی حدیث (16808) →