يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَبْدُ الْوَاحِدِ ، عَاصِمٌ الْأَحْوَلُ ، الفُضَيْلِ بْنِ زَيْدٍ الرَّقَاشِيِّ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَاصِمٌ الْأَحْوَلُ ، عَنِ الفُضَيْلِ بْنِ زَيْدٍ الرَّقَاشِيِّ ، قَالَ: كُنَّا عِنْدَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ ، قَالَ: فَتَذَاكَرْنَا الشَّرَابَ، فَقَالَ: الْخَمْرُ حَرَامٌ، قُلْتُ لَهُ: الْخَمْرُ حَرَامٌ فِي كِتَابِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، قَالَ: فَأَيْشْ تُرِيدُ، تُرِيدُ مَا سَمِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يَنْهَى عَنِ الدُّبَّاءِ وَالْحَنْتَمِ وَالْمُزَفَّتِ"، قَالَ: قُلْتُ: مَا الْحَنْتَمُ؟، قَالَ: كُلُّ خَضْرَاءَ وَبَيْضَاءَ، قَالَ: قُلْتُ: مَا الْمُزَفَّتُ؟، قَالَ: كُلُّ مُقَيَّرٍ مِنْ زِقٍّ أَوْ غَيْرِهِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
فضیل بن زید رقاشی کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم لوگ سیدنا عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ شراب کا تذکر ہ شروع ہو گیا اور سیدنا عبداللہ بن مغفل کہنے لگے کہ شراب حرام ہے، میں نے پوچھا: کیا کتاب اللہ میں اسے حرام قرار دیا گیا ہے؟ انہوں فرمایا: تمہارا مقصد کیا ہے؟ کیا تم یہ چاہتے ہو کہ میں نے اس سلسلے میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے جو سنا ہے وہ تمہیں بھی سناؤں؟ میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو کدو، حنتم اور مزفت سے منع کرتے ہوئے سنا ہے، میں نے حنتم کا مطلب پوچھا: تو انہوں نے فرمایا کہ ہر سبز اور سفید مٹکا، میں مزفت کا مطلب پوچھا: تو فرمایا کہ لک وغیرہ سے بنا ہوا برتن۔ [مسند احمد/مسنَدِ المَدَنِیِّینَ رَضِیَ اللَّه عَنهم اَجمَعِینَ/حدیث: 16795]
الحكم: إسناده صحيح