يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، وَبَهْزٌ ، سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ ، حُمَيْدُ بْنُ هِلَالٍ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُغَفَّلٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، وَبَهْزٌ ، قَالَا: حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ هِلَالٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُغَفَّلٍ ، قَالَ: دُلِّيَ جِرَابٌ مِنْ شَحْمٍ يَوْمَ خَيْبَرَ، قَالَ فَالْتَزَمْتُهُ، قُلْتُ: لَا أُعْطِي أَحَدًا مِنْهُ شَيْئًا، قَالَ فَالْتَفَتُّ، فَإِذَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يَتَبَسَّمُ"، قَالَ بَهْزٌ: إِلَيَّ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا عبداللہ بن مغفل مزنی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ غزوہ خیبر کے موقع پر مجھے چمڑے کا ایک برتن ملا جس میں چربی تھی، میں نے اسے پکڑ کر بغل میں دبا لیا اور کہنے لگا کہ میں اس میں سے کسی کو کچھ نہیں دوں گا، اچانک میری نظر پڑی تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مجھے دیکھ کر مسکرا رہے تھے۔ [مسند احمد/مسنَدِ المَدَنِیِّینَ رَضِیَ اللَّه عَنهم اَجمَعِینَ/حدیث: 16791]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1772
الحكم: إسناده صحيح، م: 1772