أَبُو عَامِرٍ ، زُهَيْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَبْدِ اللَّهِ ابْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ ، مُحَمَّدِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ ، أَبِيهِ
(حديث قدسي) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ابْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَيُّ الْبُلْدَانِ شَرٌّ؟، قَالَ: فَقَالَ:" لَا أَدْرِي" فَلَمَّا أَتَاهُ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام، قَالَ:" يَا جِبْرِيلُ، أَيُّ الْبُلْدَانِ شَرٌّ؟، قَالَ: لَا أَدْرِي حَتَّى أَسْأَلَ رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ، فَانْطَلَقَ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام، ثُمَّ مَكَثَ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَمْكُثَ، ثُمَّ جَاءَ، فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ إِنَّكَ سَأَلْتَنِي أَيُّ الْبُلْدَانِ شَرٌّ، فَقُلْتُ: لَا أَدْرِي وَإِنِّي سَأَلْتُ رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ أَيُّ الْبُلْدَانِ شَرٌّ؟، فَقَالَ:" أَسْوَاقُهَا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا: یا رسول اللہ!! شہر کا کون سا حصہ سب سے بدترین ہوتا ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: مجھے معلوم نہیں جب جبرائیل آئے تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان سے یہی سوال پوچھا:، انہوں نے بھی جواب دیا کہ مجھے معلوم نہیں، البتہ میں اپنے رب سے پوچھتا ہوں، یہ کہہ کر وہ چلے گئے، کچھ دیر بعد وہ واپس آئے اور کہنے لگے کہ اے محمد! آپ نے مجھے سے یہ سوال پوچھا: تھا اور میں نے کہا مجھے معلوم نہیں اب میں اپنے پروردگار سے پوچھ آیا ہوں، اس نے جو جواب دیا ہے کہ شہر کا سب سے بدترین حصہ اس کے بازار ہوتے ہیں۔ [مسند احمد/مسنَدِ المَدَنِیِّینَ رَضِیَ اللَّه عَنهم اَجمَعِینَ/حدیث: 16744]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لضعف عبدالله بن محمد بن عقيل، وهذا الحديث من مناكير زهير بن محمد
الحكم: إسناده ضعيف لضعف عبدالله بن محمد بن عقيل، وهذا الحديث من مناكير زهير بن محمد