يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، إِسْرَائِيلُ بْنُ يُونُسَ بْنِ أَبِي إِسْحَاقَ ، إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى ، جَدَّتِهِ ، سُوَيْدِ بْنِ حَنْظَلَةَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا إِسْرَائِيلُ بْنُ يُونُسَ بْنِ أَبِي إِسْحَاقَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى ، عَنْ جَدَّتِهِ ، عَنْ أَبِيهَا سُوَيْدِ بْنِ حَنْظَلَةَ ، قَالَ: خَرَجْنَا نُرِيدُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَمَعَنَا وَائِلُ بْنُ حُجْرٍ، فَأَخَذَهُ عَدُوٌّ لَهُ، فَتَحَرَّجَ النَّاسُ أَنْ يَحْلِفُوا، وَحَلَفْتُ إِنَّهُ أَخِي، فَخَلَّى عَنْهُ، فَأَتَيْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ:" أَنْتَ كُنْتَ أَبَرَّهُمْ وَأَصْدَقَهُمْ، صَدَقْتَ الْمُسْلِمُ أَخُو الْمُسْلِمِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا سوید بن حنظلہ سے مروی ہے کہ ایک دن ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضری کے ارادے سے نکلے، ہمارے ساتھ وائل بن حجر بھی تھے، راستے میں انہیں ان کے کسی دشمن نے پکڑ لیا، لوگ قسم کھانے سے گھبرانے لگے، اس پر میں نے قسم کھالی کہ یہ میرا بھائی ہے، اس پر وہ شخص چلا گیا، جب ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو میں نے اس واقعے کا بھی تذکر ہ کیا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: تم ان میں سب سے بڑھ کر نیکوکار اور سچے رہے، تم نے سچ کہا کیونکہ ہر مسلمان دوسرے مسلمان کا بھائی ہے۔ [مسند احمد/مسنَدِ المَدَنِیِّینَ رَضِیَ اللَّه عَنهم اَجمَعِینَ/حدیث: 16726]
حکم دارالسلام
جدة إبراهيم بن عبدالأعلى لم نجد لها ترجمة
الحكم: جدة إبراهيم بن عبدالأعلى لم نجد لها ترجمة