بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

مسند احمد

حدیث نمبر: 16713
کتب مسند احمد ابواب باب حدیث 16713
حدیث نمبر: 16713 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ يَعْنِي الدَّرَاوَرْدِيَّ ، عَمْرِو بْنِ يَحْيَى ، أَبِيهِ ، عَمِّهِ ، أَبُو حَسَنٍ الْمَازِنِيُّ
(حديث موقوف) قال قال عَبْد اللَّهِ بن أحمد: حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَاتِمٍ الطَّوِيلُ، وَكَانَ ثِقَةً رَجُلًا صَالِحًا، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ يَعْنِي الدَّرَاوَرْدِيَّ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى ، عَنْ أَبِيهِ أَوْ عَمِّهِ ، قَالَ: كَانَتْ لِي جُمَّةٌ كُنْتُ إِذَا سَجَدْتُ رَفَعْتُهَا، فَرَآنِي أَبُو حَسَنٍ الْمَازِنِيُّ ، فَقَالَ:" تَرْفَعُهَا لَا يُصِيبُهَا التُّرَابُ! وَاللَّهِ لَأَحْلِقَنَّهَا، فَحَلَقَهَا.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
عمرو بن یحییٰ اپنے والد یا چچا سے نقل کرتے ہیں کہ میرے سر کے بال بہت بڑے تھے، میں جب سجدہ کرتا تھا تو انہیں اپنے ہاتھ سے اوپر کرتا تھا، ایک مرتبہ سیدنا ابوحسن نے مجھے اس طرح کرتے ہوئے دیکھ لیا تو فرمانے لگے کہ تم انہیں اس لئے اوپر کرتے ہو کہ انہیں مٹی نہ لگ جائے، بخدا! میں انہیں کاٹ کر رہوں گا، چنانچہ انہوں نے وہ بال کاٹ دیئے۔ [مسند احمد/مسنَدِ المَدَنِیِّینَ رَضِیَ اللَّه عَنهم اَجمَعِینَ/حدیث: 16713]
حکم دارالسلام
هذا الأثر ضعيف للشك بين والد عمرو بن يحيى أو عمه، ولم يتبين لنا من هو
الحكم: هذا الأثر ضعيف للشك بين والد عمرو بن يحيى أو عمه، ولم يتبين لنا من هو
← پچھلی حدیث (16712) باب پر واپس اگلی حدیث (16714) →