عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ ، رَبِيعَةُ بْنُ كُلْثُومٍ ، أَبِي ، أَبِي غَادِيَةَ الْجُهَنِيِّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا رَبِيعَةُ بْنُ كُلْثُومٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ أَبِي غَادِيَةَ الْجُهَنِيِّ ، قَالَ: خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْعَقَبَةِ فَقَالَ:" يَا أَيُّهَا النَّاسُ، إِنَّ دِمَاءَكُمْ وَأَمْوَالَكُمْ عَلَيْكُمْ حَرَامٌ إِلَى أَنْ تَلْقَوْا رَبَّكُمْ كَحُرْمَةِ يَوْمِكُمْ هَذَا، فِي بَلَدِكُمْ هَذَا، فِي شَهْرِكُمْ هَذَا، أَلَا هَلْ بَلَّغْتُ؟"، قَالُوا: نَعَمْ، قَالَ" اللَّهُمَّ هَلْ بَلَّغْتُ؟".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابوغادیہ جہنی سے مروی ہے کہ یوم عقبہ میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہم سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا: لوگو! قیامت تک تم لوگوں کی جان ومال کو ایک دوسرے پر حرام قرار دیا جاتا ہے، بالکل اسی طرح جیسے اس دن کی حرمت اس مہینے میں اور اس شہر میں ہے، کیا میں نے پیغام الٰہی پہنچادیا؟ لوگوں نے تائید کی، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اے اللہ تو گواہ رہ، یاد رکھو! میرے پیچھے کافر نہ ہو جانا کہ ایک دوسرے کی گردنیں مارنے لگو، کیا میں نے پیغام الٰہی پہنچا دیا۔ [مسند احمد/مسنَدِ المَدَنِیِّینَ رَضِیَ اللَّه عَنهم اَجمَعِینَ/حدیث: 16699]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن