إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ ، يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ يَعْنِي ابْنَ سَعْدٍ ، أَبِي ، صَالِحٍ يَعْنِي ابْنَ كَيْسَانَ ، ابْنِ شِهَابٍ ، عُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، ابْنَ عَبَّاسٍ ، الصَّعْبَ بْنَ جَثَّامَةَ
(حديث مرفوع) قال عَبْد اللَّهِ بن أحمد: حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ يَعْنِي ابْنَ سَعْدٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَبِي ، عَنْ صَالِحٍ يَعْنِي ابْنَ كَيْسَانَ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، أَنَّ عُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ أخْبَرَهُ، أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ أَخْبَرَهُ، أَنَّ الصَّعْبَ بْنَ جَثَّامَةَ أَخْبَرَهُ، أَنَّهُ أَهْدَى لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِمَارَ وَحْشٍ وَهُوَ بِوَدَّانَ، فَرَدَّهُ عَلَيْهِ، قَالَ: فَلَمَّا رَأَى مَا فِي وَجْهِي، قَالَ:" إِنَّا لَمْ نَرُدَّهُ عَلَيْكَ إِلَّا أَنَّا حُرُمٌ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا صعب بن جثامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ مقام وداون میں میں نے آپ کی خدمت میں جنگلی گدھے کا گوشت ہدیۃ پیش کیا، لیکن نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے وہ مجھے واپس کر دیا اور جب میرے چہرے پر غمگینی کے آثار دیکھے تو فرمایا کہ اسے واپس کرنے کی اور کوئی وجہ نہیں ہے سوائے اس کے کہ ہم محرم ہیں۔ [مسند احمد/مسنَدِ المَدَنِیِّینَ رَضِیَ اللَّه عَنهم اَجمَعِینَ/حدیث: 16671]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1825، م: 1193
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1825، م: 1193