عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ ، حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، صَالِحَ بْنَ كَيْسَانَ ، عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ ، الصَّعْبِ بْنِ جَثَّامَةَ
(حديث مرفوع) قَالَ عبد الله بن أحمد: حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ صَالِحَ بْنَ كَيْسَانَ يُحَدِّثُ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ الصَّعْبِ بْنِ جَثَّامَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَمَا هُوَ بِوَدَّانَ إِذْ أَتَاهُ الصَّعْبُ بْنُ جَثَّامَةَ أَوْ رَجُلٌ بِبَعْضِ حِمَارِ وَحْشٍ، فَرَدَّهُ عَلَيْهِ، فَقَالَ:" إِنَّا حُرُمٌ لَا نَأْكُلُ الصَّيْدَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا صعب بن جثامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم میرے پاس سے گزرے، میں اس وقت مقام ابواء یاودان میں تھا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم احرام کی حالت میں تھے، میں نے آپ کی خدمت میں جنگلی گدھے کا گوشت ہدیۃ پیش کیا، لیکن نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے وہ مجھے واپس کر دیا اور جب میرے چہرے پر غمگینی کے آثار دیکھے تو فرمایا کہ اسے واپس کرنے کی اور کوئی وجہ نہیں ہے سوائے اس کے کہ ہم محرم ہیں۔ [مسند احمد/مسنَدِ المَدَنِیِّینَ رَضِیَ اللَّه عَنهم اَجمَعِینَ/حدیث: 16662]
الحكم: رجاله ثقات