بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

مسند احمد

حدیث نمبر: 16633
کتب مسند احمد ابواب باب حدیث 16633
حدیث نمبر: 16633 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
أَبُو صَالِحٍ الْحَكَمُ بْنُ مُوسَى ، عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، أَبِي ، أَبِيهِ ، ذِي الْجَوْشَنِ الضِّبَابِيِّ
(حديث مرفوع) قَالَ عبد الله بن أحمد حَدَّثَنِي أَبُو صَالِحٍ الْحَكَمُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، قَالَ: أَبِي أَخْبَرَنَا، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ ذِي الْجَوْشَنِ الضِّبَابِيِّ ، قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ أَنْ فَرَغَ مِنْ أَهْلِ بَدْرٍ بِابْنِ فَرَسٍ لِي يُقَالُ لَهَا: الْقَرْحَاءُ، فَقُلْتُ: يَا مُحَمَّدُ، إِنِّي قَدْ جِئْتُكَ بِابْنِ الْقَرْحَاءِ لِتَتَّخِذَهُ، قَالَ:" لَا حَاجَةَ لِي فِيهِ، وَإِنْ أَرَدْتَ أَنْ أَقِيضَكَ به الْمُخْتَارَةَ مِنْ دُرُوعِ بَدْرٍ فَعَلْتُ، فَقُلْتُ: مَا كُنْتُ لِأَقِيضَهُ الْيَوْمَ بِعُدَّةٍ، قَالَ:" لَا حَاجَةَ لِي فِيهِ"، ثُمَّ قَالَ:" يَا ذَا الْجَوْشَنِ، أَلَا تُسْلِمُ، فَتَكُونَ مِنْ أَوَّلِ أَهْلِ هَذَا الْأَمْرِ؟"، فَقُلْتُ: لَا، قَالَ:" لِمَ"، قُلْتُ: إِنِّي رَأَيْتُ قَوْمَكَ وَلِعُوا بِكَ، قَالَ:" فَكَيْفَ بَلَغَكَ عَنْ مَصَارِعِهِمْ بِبَدْرٍ؟"، قُلْتُ: قَدْ بَلَغَنِي، قَالَ:" فَإِنَّا نُهْدِي لَكَ"، قُلْتُ: إِنْ تَغْلِبْ عَلَى الْكَعْبَةِ وَتَقْطُنْهَا، قَالَ:" لَعَلَّكَ إِنْ عِشْتَ تَرَى ذَلِكَ"، ثُمَّ قَالَ:" يَا بِلَالُ خُذْ حَقِيبَةَ الرَّجُلِ، فَزَوِّدْهُ مِنَ الْعَجْوَةِ" فَلَمَّا أَدْبَرْتُ، قَالَ:" أَمَا إِنَّهُ مِنْ خَيْرِ فُرْسَانِ بَنِي عَامِرٍ"، قَالَ: فَوَاللَّهِ إِنِّي بِأَهْلِي بِالْغَوْرِ إِذْ أَقْبَلَ رَاكِبٌ، فَقُلْتُ: مَا فَعَلَ النَّاسُ؟، قَالَ: وَاللَّهِ قَدْ غَلَبَ مُحَمَّدٌ عَلَى الْكَعْبَةِ وَقَطَنَهَا، فَقُلْتُ: هَبِلَتْنِي أُمِّي، وَلَوْ أُسْلِمُ يَوْمَئِذٍ ثُمَّ أَسْأَلُهُ الْحِيرَةَ لَأَقْطَعَنِيهَا.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ذی الجوشن رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ قبول اسلام سے قبل میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں اس وقت حاضر ہوا جب آپ اہل بدر سے فراغت پاچکے تھے، میں اپنے ساتھ اپنے گھوڑے کا بچہ لے کر آیا تھا، میں نے آ کر کہا کہ اے محمد! میں آپ کے پاس اپنے گھوڑے قرحاء کا بچہ لے کر آیا ہوں تاکہ آپ اسے خرید لیں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: فی الحال مجھے اس کی کوئی ضرورت نہیں ہے، البتہ اگر تم چاہو تو میں اس کے بدلے میں تمہیں بدر کی منتخب زرہیں دے سکتا ہوں، میں نے کہا کہ آج تو میں کسی غلام کے بدلے میں بھی یہ گھوڑا نہیں دوں گا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: پھر مجھے بھی اس کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ پھر فرمایا: اے ذی الجوشن! تم مسلمان کیوں نہیں ہو جاتے کہ اس دین کے ابتدائی لوگوں میں تم بھی شامل ہو جاؤ، میں نے عرض کیا: کہ نہیں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: کیوں؟ میں نے عرض کیا: کہ میں نے دیکھا کہ آپ کی قوم نے آپ کا حق مارا ہے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پوچھا کہ تمہیں اہل بدر کے مقتولین کے حوالے سے کچھ معلوم نہیں ہوا؟ میں نے عرض کیا: کہ مجھے معلوم ہے، کیا آپ مکہ مکر مہ پر غالب آ کر اسے جھکا سکیں گے؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اگر تم زندہ رہے تو وہ دن ضرور دیکھو گے۔ پھر سیدنا بلال رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ بلال! ان کا تھیلا لے کر عجوہ کھجور سے بھردو تاکہ زارد راہ رہے، جب میں پشت پھیر کر واپس جانے لگا تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ یہ بنو عامر کے شہسواروں میں سب سے بہتر ہے، میں ابھی اپنے اہل خانہ کے ساتھ غور میں ہی تھا کہ ایک سوار آیا، میں نے اس سے پوچھا کہ کہاں سے آرہے ہو؟ اس نے کہا مکہ مکر مہ سے، میں نے پوچھا کہ لوگوں کے کیا حالات ہیں؟ اس نے بتایا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ان پر غالب آ گئے ہیں، میں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا اگر میں اسی دن مسلمان ہو جاتا اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے حیرہ نامی شہر بھی مانگتا تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم وہ بھی مجھے دے دیتے۔ سیدنا ذی الجوشن رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ قبول اسلام سے قبل میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں اس وقت حاضر ہوا جب آپ اہل بدر سے فراغت پاچکے تھے، میں اپنے ساتھ اپنے گھوڑے کا بچہ لے کر آیا تھا، میں نے آ کر کہا کہ اے محمد! میں آپ کے پاس اپنے گھوڑے قرحاء کا بچہ لے کر آیا ہوں تاکہ آپ اسے خرید لیں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: فی الحال مجھے اس کی کوئی ضرورت نہیں ہے، البتہ اگر تم چاہو تو میں اس کے بدلے میں تمہیں بدر کی منتخب زرہیں دے سکتا ہوں، میں نے کہا کہ آج تو میں کسی غلام کے بدلے میں بھی یہ گھوڑا نہیں دوں گا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: پھر مجھے بھی اس کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ پھر فرمایا: اے ذی الجوشن! تم مسلمان کیوں نہیں ہو جاتے کہ اس دین کے ابتدائی لوگوں میں تم بھی شامل ہو جاؤ، میں نے عرض کیا: کہ نہیں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: کیوں؟ میں نے عرض کیا: کہ میں نے دیکھا کہ آپ کی قوم نے آپ کا حق مارا ہے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پوچھا کہ تمہیں اہل بدر کے مقتولین کے حوالے سے کچھ معلوم نہیں ہوا؟ میں نے عرض کیا: کہ مجھے معلوم ہے، کیا آپ مکہ مکر مہ پر غالب آ کر اسے جھکا سکیں گے؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اگر تم زندہ رہے تو وہ دن ضرور دیکھو گے۔۔۔۔۔۔ پھر راوی نے پوری حدیث ذکر کی۔ [مسند احمد/مسنَدِ المَدَنِیِّینَ رَضِیَ اللَّه عَنهم اَجمَعِینَ/حدیث: 16633]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لانقطاعه عن ابيه هو ابو اسحاق السبيعي، لم يسمع من ذي الجوشن
الحكم: إسناده ضعيف لانقطاعه عن ابيه هو ابو اسحاق السبيعي، لم يسمع من ذي الجوشن
← پچھلی حدیث (16632) باب پر واپس اگلی حدیث (16634) →