أَبُو النَّضْرِ ، أَبُو مُعَاوِيَةَ يَعْنِي شَيْبَانَ ، لَيْثٍ ، شَهْرٍ ، الْأَنْصَارِيُّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ يَعْنِي شَيْبَانَ ، عَنْ لَيْثٍ ، عَنْ شَهْرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي الْأَنْصَارِيُّ ، صَاحِبُ بُدْنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا بَعَثَهُ، قَالَ:" رَجَعْتُ؟"، فَقُلْتُ: نَعَمْ، يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا تَأْمُرُنِي بِمَا عَطِبَ مِنْهَا؟، قَالَ:" انْحَرْهَا، ثُمَّ اصْبُغْ نَعْلَهَا فِي دَمِهَا، ثُمَّ ضَعْهَا عَلَى صَفْحَتِهَا، أَوْ عَلَى جَنْبِهَا، وَلَا تَأْكُلْ مِنْهَا أَنْتَ وَلَا أَحَدٌ مِنْ أَهْلِ رُفْقَتِكَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ایک انصاری صحابی رضی اللہ عنہ جو اونٹنی کی دیکھ بھال پر مامور تھے کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انہیں کہیں بھیجا، میں کچھ دور جا کر واپس آگیا اور عرض کیا: یا رسول اللہ!! اگر کوئی اونٹ مرنے والا ہو جائے تو آپ کیا حکم دیتے ہیں؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اسے ذبح کر لینا، پھر اس کے نعلوں کو خون میں تر بتر کر کے اس کی پیشانی یا پہلو پر رکھ دینا اور اس میں سے نہ تم کھانا اور نہ ہی تمہارا کوئی رفیق کھائے۔ [مسند احمد/مسنَدِ المَدَنِیِّینَ رَضِیَ اللَّه عَنهم اَجمَعِینَ/حدیث: 16609]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف ليث
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف ليث