أَبُو بَكْرٍ الْحَنَفِيُّ ، ابْنُ جَعْفَرٍ ، عَمْرِو ابْنِ شُعَيْبٍ ، ابْنَةِ كَرْدَمَةَ ، أَبِيهَا
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ الْحَنَفِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ جَعْفَرٍ ، عَنْ عَمْرِو ابْنِ شُعَيْبٍ ، عَنِ ابْنَةِ كَرْدَمَةَ ، عَنْ أَبِيهَا ، أَنَّهُ سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: إِنِّي نَذَرْتُ أَنْ أَنْحَرَ ثَلَاثَةً مِنْ إِبِلِي، فَقَالَ:" إِنْ كَانَ عَلَى جَمْعٍ مِنْ جَمْعِ الْجَاهِلِيَّةِ، أَوْ عَلَى عِيدٍ مِنْ أَعْيَادِ الْجَاهِلِيَّةِ، أَوْ عَلَى وَثَنٍ، فَلَا، وَإِنْ كَانَ عَلَى غَيْرِ ذَلِكَ فَاقْضِ نَذْرَكَ"، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ عَلَى أُمِّ هَذِهِ الْجَارِيَةِ مَشْيًا، أَفَأَمْشِي عَنْهَا؟، قَالَ:" نَعَمْ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا کر دم بن سفیان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے اس منت کا حکم پوچھا: جو تین اونٹ ذبح کرنے کے حوالے سے انہوں نے زمانہ جاہلیت میں مانی تھی؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پوچھا کہ تم نے وہ منت اگر کسی بت یا پتھر کے لئے مانی تھی تو پھر نہیں اور اگر اللہ کے لئے مانی تو اسے پورا کر و، پھر انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ!! اس بچی کی ماں پر پیدل چلنا واجب ہے، کیا میں اس کی طرف سے چل سکتا ہوں؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ہاں! [مسند احمد/مسنَدِ المَدَنِیِّینَ رَضِیَ اللَّه عَنهم اَجمَعِینَ/حدیث: 16607]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لانقطاعه، عمرو بن شيعب لم يسمع من ابنة كردمة
الحكم: إسناده ضعيف لانقطاعه، عمرو بن شيعب لم يسمع من ابنة كردمة