بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

مسند احمد

حدیث نمبر: 16581
کتب مسند احمد ابواب باب حدیث 16581
حدیث نمبر: 16581 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، مَنْصُورٍ ، مُجَاهِدًا ، أَبِي عَيَّاشٍ الزُّرَقِيِّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ مُجَاهِدًا يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِي عَيَّاشٍ الزُّرَقِيِّ ، قَالَ شُعْبَةُ: كَتَبَ بِهِ إِلَيَّ، وَقَرَأْتُهُ عَلَيْهِ، وَسَمِعْتُهُ مِنْهُ يُحَدِّثُ بِهِ، وَلَكِنِّي حَفِظْتُهُ مِنَ الْكِتَابِ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ فِي مَصَافِّ الْعَدُوِّ بِعُسْفَانَ، وَعَلَى الْمُشْرِكِينَ خَالِدُ ابْنُ الْوَلِيدِ، فَصَلَّى بِهِمْ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الظُّهْرَ، ثُمَّ قَالَ الْمُشْرِكُونَ: إِنَّ لَهُمْ صَلَاةً بَعْدَ هَذِهِ هِيَ أَحَبُّ إِلَيْهِمْ مِنْ أَبْنَائِهِمْ وَأَمْوَالِهِمْ، قال:" فَصَلَّى بِهِمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعَصْرَ، فَصَفَّهُمْ صَفَّيْنِ خَلْفَهُ، قَالَ: فَرَكَعَ بِهِمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَمِيعًا، فَلَمَّا رَفَعُوا رُءُوسَهُمْ سَجَدَ الصَّفُّ الَّذِي يَلِيهِ، وَقَامَ الْآخَرُونَ، فَلَمَّا رَفَعُوا رُءُوسَهُمْ سَجَدَ الصَّفُّ الْمُؤَخَّرُ، لِرُكُوعِهِمْ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: ثُمَّ تَأَخَّرَ الصَّفُّ الْمُقَدَّمُ، وَتَقَدَّمَ الصَّفُّ الْمُؤَخَّرُ، فَقَامَ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمْ فِي مَقَامِ صَاحِبِهِ، ثُمَّ رَكَعَ بِهِمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَمِيعًا، فَلَمَّا رَفَعُوا رُءُوسَهُمْ مِنَ الرُّكُوعِ، سَجَدَ الصَّفُّ الَّذِي يَلِيهِ، وَقَامَ الْآخَرُونَ، ثُمَّ سَلَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَيْهِمْ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابوعیاش زرقی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ مقام عسفان میں تھے کہ مشرکین سامنے سے آتے ہوئے نظر آئے، ان کے سردار خالد بن ولید تھے، وہ لوگ ہمارے اور قبلہ کے درمیان حائل تھے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اسی دوران ہمیں ظہر کی نماز پڑھانے لگے، مشرکین یہ دیکھ کر کہنے لگے کہ یہ لوگ جس حال میں تھے اگر ہم چاہتے تو ان پر حملہ کر سکتے تھے، پھر خود ہی کہنے لگے کہ ابھی ایک اور نماز کا وقت آنے والا ہے جو انہیں ان کی اولاد اور خود اپنی جان سے بھی زیادہ عزیز ہے۔ اس موقع پر ظہر اور عصر کے درمیانی وقفے میں سیدنا جبرائیل یہ آیات لے کر نازل ہوئے واذا کنت فیہم۔۔۔۔۔۔ چنانچہ جب نماز عصر کا وقت آیا تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے صحابہ کو حکم دیا اور انہوں نے اپنے ہتھیار سنبھال لئے پھر ہم نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پیچھے دو صفیں بنالیں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے رکوع کیا تو ہم نے بھی رکوع کیا، آپ نے رکوع سے سر اٹھایا تو ہم نے بھی اٹھا لیا، پھر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پہلی صف والوں کو ساتھ ملا کر سجدہ کیا اور دوسری صف والے کھڑے ہو کر نگہبانی کرتے رہے، جب وہ سجدہ کر چکے اور کھڑے ہو گئے تو پیچھے والوں نے بیٹھ کر سجدہ کر لیا، پھر دونوں صفوں نے اپنی اپنی جگہ تبدیل کر لی اور ایک دوسرے کی جگہ پر آ گئے۔ پھر دوسری رکعت میں بھی اسی طرح سب نے اکٹھے رکوع کیا اور سر اٹھایا، اس کے بعد نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنے پیچھے والی صف کے ساتھ سجدہ کیا اور پیچھے والے کھڑے ہو کر نگہبانی کرتے رہے، جب نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بیٹھ گئے تو دوسری صف والوں نے بھی بیٹھ کر سجدہ کر لیا، اس کے بعد نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے سلام پھیر دیا اور نماز سے فارغ ہو گئے اس طرح کی نماز نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے دو مرتبہ پڑھائی تھی، ایک مرتبہ عسفان میں اور ایک مرتبہ بنوسلیم کے کسی علاقے میں۔ [مسند احمد/مسنَدِ المَدَنِیِّینَ رَضِیَ اللَّه عَنهم اَجمَعِینَ/حدیث: 16581]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
← پچھلی حدیث (16580) باب پر واپس اگلی حدیث (16582) →