يُونُسُ ، الْعَطَّافُ ، عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، سَلَمَةُ بْنُ الْأَكْوَعِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يُونُسُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْعَطَّافُ ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، وَقَالَ غَيْرُ يُونُسَ بْنِ رَزِينٍ، أَنَّهُ نَزَلَ الرَّبَذَةَ هُوَ وَأَصْحَابُهُ يُرِيدُونَ الْحَجَّ، قِيلَ لَهُمْ: هَاهُنَا سَلَمَةُ بْنُ الْأَكْوَعِ ، صَاحِبُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَتَيْنَاهُ، فَسَلَّمْنَا عَلَيْهِ، ثُمَّ سَأَلْنَاهُ، فَقَالَ:" بَايَعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِي هَذِهِ، وَأَخْرَجَ لَنَا كَفَّهُ كَفًّا ضَخْمَةً، قَالَ: فَقُمْنَا إِلَيْهِ، فَقَبَّلْنَا كَفَّيْهِ جَمِيعًا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
عبدالرحمن بن رزین کہتے ہیں کہ وہ اور ان کے ساتھی حج کے ارادے سے جا رہے تھے، راستے میں مقام ربذہ میں پڑاؤ کیا، کسی نے بتایا کہ یہاں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ایک صحابی سیدنا سلمہ بن اکوع بھی رہتے ہیں، ہم ان کی خدمت میں حاضر ہوئے اور انہیں سلام کیا، پھر ہم نے ان سے کچھ پوچھا: تو انہوں نے فرمایا کہ میں نے اپنے اس ہاتھ سے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے دست حق پرست پر بیعت کی ہے، یہ کہہ کر انہوں نے اپنی بھری ہوئی ہتھیلی باہر نکالی ہم نے کھڑے ہو کر ان کی دونوں ہتھیلیوں کو بوسہ دیا۔ [مسند احمد/مسنَدِ المَدَنِیِّینَ رَضِیَ اللَّه عَنهم اَجمَعِینَ/حدیث: 16551]
حکم دارالسلام
إسناده محتمل للتحسين
الحكم: إسناده محتمل للتحسين