بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

مسند احمد

حدیث نمبر: 16510
کتب مسند احمد ابواب باب حدیث 16510
حدیث نمبر: 16510 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
حَمَّادُ بْنُ مَسْعَدَةَ ، يَزِيدَ يَعْنِي ابْنَ أَبِي عُبَيْدٍ ، سَلَمَةَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ مَسْعَدَةَ ، عَنْ يَزِيدَ يَعْنِي ابْنَ أَبِي عُبَيْدٍ ، عَنْ سَلَمَةَ ، قَالَ: كُنْتُ جَالِسًا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأُتِيَ بِجِنَازَةٍ، فَقَالَ:" هَلْ تَرَكَ مِنْ دَيْنٍ؟"، قَالُوا: لَا، قَالَ:" هَلْ تَرَكَ مِنْ شَيْءٍ؟"، قَالُوا: لَا، قَالَ: فَصَلَّى عَلَيْهِ، ثُمَّ أُتِيَ بِأُخْرَى، فَقَالَ:" هَلْ تَرَكَ مِنْ دَيْنٍ؟"، قَالُوا: لَا، قَالَ:" هَلْ تَرَكَ مِنْ شَيْءٍ؟"، قَالُوا: نَعَمْ، ثَلَاثَة دَنَانِيرَ، قَالَ: فَقَالَ بأصابعه: ثَلَاثَ كَيَّاتٍ، قَالَ: ثُمَّ أُتِيَ بِالثَّالِثَةِ، فَقَالَ:" هَلْ تَرَكَ مِنْ دَيْنٍ؟"، قَالُوا: نَعَمْ، قَالَ:" هَلْ تَرَكَ مِنْ شَيْءٍ؟"، قَالُوا: لَا، قَالَ:" صَلُّوا عَلَى صَاحِبِكُمْ"، فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ: عَلَيَّ دَيْنُهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: فَصَلَّى عَلَيْهِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس بیٹھا ہوا تھا کہ ایک جنازہ لایا گیا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پوچھا: کیا اس نے اپنے پیچھے کوئی قرض چھوڑا ہے؟ لوگوں نے بتایا نہیں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پوچھا: کیا اس نے کوئی ترکہ چھوڑا ہے؟ لوگوں نے بتایا نہیں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس کی نماز جنازہ پڑھا دی، پھر دوسرا جنازہ آیا اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس کے متعلق بھی یہی پوچھا کہ اس نے کوئی قرض چھوڑا ہے؟ لوگوں نے بتایا نہیں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پوچھا: کیا اس نے ترکہ میں کچھ چھوڑا ہے؟ لوگوں نے بتایا جی ہاں! تین دینار، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنی انگلیوں سے اشارہ کر کے فرمایا: جہنم کے تین داغ ہیں، پھر تیسرا جنازہ لایا گیا اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حسب سابق پوچھا کہ اس نے کوئی قرض چھوڑا ہے؟ لوگوں نے بتایا جی ہاں! پھر پوچھا کہ ترکہ میں کچھ چھوڑا ہے؟ لوگوں نے بتایا جی ہاں! پھر پوچھا کہ ترکہ میں کچھ چھوڑا ہے؟ لوگوں نے بتایا نہیں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: تو پھر اپنے ساتھی کی نماز جنازہ خود ہی پڑھ لو، اس پر ایک انصاری نے عرض کیا: یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! اس کا قرض میرے ذمے ہے، چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس کی بھی نماز جنازہ پڑھا دی۔ [مسند احمد/مسنَدِ المَدَنِیِّینَ رَضِیَ اللَّه عَنهم اَجمَعِینَ/حدیث: 16510]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2295
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2295
← پچھلی حدیث (16509) باب پر واپس اگلی حدیث (16511) →