مُؤَمَّلٌ ، وُهَيْبٌ ، عَمْرُو بْنُ يَحْيَى ، أَبِيهِ ، لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدٍ
(حديث موقوف) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا مُؤَمَّلٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ يَحْيَى ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: قِيلَ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدٍ يَوْمَ الْحَرَّةِ:" هَلُمَّ إِلَى ابْنِ حَنْظَلَةَ، يُبَايِعُ النَّاسَ، قَالَ: عَلَامَ يُبَايِعُهُمْ؟، قَالُوا: عَلَى الْمَوْتِ، قَالَ: لَا أُبَايِعُ عَلَيْهِ أَحَدًا بَعْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
یحییٰ کہتے ہیں کہ کسی شخص نے حرہ کے موقع پر سیدنا عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ سے کہا آیئے! ابن حنظلہ کے پاس چلیں جو لوگوں سے بیعت لے رہا ہے، انہوں نے پوچھا کہ وہ کس چیز پر بیعت لے رہا ہے؟ بتایا گیا کہ موت پر، انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے بعد میں کسی شخص سے اس پر بیعت نہیں کر سکتا۔ [مسند احمد/مسنَدِ المَدَنِیِّینَ رَضِیَ اللَّه عَنهم اَجمَعِینَ/حدیث: 16463]
حکم دارالسلام
هذا الأثر صحيح، مؤمل وإن كان سيئ الحفظ، قد توبع، خ: 2959، م: 1861
الحكم: هذا الأثر صحيح، مؤمل وإن كان سيئ الحفظ، قد توبع، خ: 2959، م: 1861