عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، مَالِكٌ ، زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، بُسْرُ بْنُ مِحْجَنٍ ، مِحْجَنٍ
(حديث مرفوع) قَرَأْتُ عَلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ : مَالِكٌ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِي الدِّيلِ، يُقَالُ لَهُ بُسْرُ بْنُ مِحْجَنٍ ، عَنْ أَبِيهِ مِحْجَنٍ ، أَنَّهُ كَانَ فِي مَجْلِسٍ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأُذِّنَ بِالصَّلَاةِ، فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَلَّى، ثُمَّ رَجَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمِحْجَنٌ فِي مَجْلِسِهِ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَا مَنَعَكَ أَنْ تُصَلِّيَ مَعَ النَّاسِ، أَلَسْتَ بِرَجُلٍ مُسْلِمٍ؟" قَالَ: بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَلَكِنِّي كُنْتُ قَدْ صَلَّيْتُ فِي أَهْلِي، فَقَالَ لَهُ:" إِذَا جِئْتَ فَصَلِّ مَعَ النَّاسِ، وَإِنْ كُنْتَ قَدْ صَلَّيْتَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا محجن سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا نماز کھڑی ہو گئی تو میں ایک طرف کو بیٹھ گیا نماز سے فارغ ہو کر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: کیا تم مسلمان نہیں ہو میں نے عرض کیا: کیوں نہیں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ تو پھر تم نے لوگوں کے ساتھ نماز کیوں نہیں پڑھی میں نے عرض کیا: کہ میں نے گھر میں نماز پڑھ لی تھی نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: تم نے اگرچہ گھر میں نماز پڑھ لی ہو تب بھی لوگوں کے ساتھ نماز میں شریک ہو جایا کر و۔ [مسند احمد/مسنَدِ المَدَنِیِّینَ رَضِیَ اللَّه عَنهم اَجمَعِینَ/حدیث: 16395]
حکم دارالسلام
حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف لجهالة بسر، وقد توبع
الحكم: حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف لجهالة بسر، وقد توبع