بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

مسند احمد

حدیث نمبر: 16211
کتب مسند احمد ابواب باب حدیث 16211
حدیث نمبر: 16211 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
حَجَّاجٌ ، ابْنُ جُرَيْجٍ ، سُلَيْمَانُ بْنُ مُوسَى ، زُبَيْدٌ ، قَتَادَةَ بْنَ النُّعْمَانِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، قَالَ: حَدَّثَنِي ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ: قَالَ سُلَيْمَانُ بْنُ مُوسَى ، أَخْبَرَنِي زُبَيْدٌ ، أَنَّ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ أَتَى أَهْلَهُ، فَوَجَدَ قَصْعَةً مِنْ قَدِيدِ الْأَضْحَى، فَأَبَى أَنْ يَأْكُلَهُ، فَأَتَى قَتَادَةَ بْنَ النُّعْمَانِ فَأَخْبَرَهُ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَامَ، فَقَالَ:" إِنِّي كُنْتُ أَمَرْتُكُمْ أَنْ لَا تَأْكُلُوا الْأَضَاحِيَّ فَوْقَ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ لِتَسَعَكُمْ، وَإِنِّي أُحِلُّهُ لَكُمْ، فَكُلُوا مِنْهُ مَا شِئْتُمْ، وَلَا تَبِيعُوا لُحُومَ الْهَدْيِ وَالْأَضَاحِيِّ، فَكُلُوا، وَتَصَدَّقُوا، وَاسْتَمْتِعُوا بِجُلُودِهَا، وَلَا تَبِيعُوهَا، وَإِنْ أُطْعِمْتُمْ مِنْ لَحْمِهَا، فَكُلُوا إِنْ شِئْتُمْ". وقَالَ فِي هَذَا الْحَدِيثِ: عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" فَالْآنَ فَكُلُوا، وَاتَّجِرُوا، وَادَّخِرُوا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابوسعید خدری ایک مرتبہ سیدنا قتادہ کے گھر آئے اور دیکھا کہ بقرعید کے گوشت میں بنا ہوا ثرید ایک پیالے میں رکھا ہوا ہے انہوں نے اسے کھانے سے انکار کر دیا سیدنا قتادہ بن نعمان ان کے پاس آئے اور انہیں بتایا کہ ایک موقع پر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم حج کے دوران کھڑے ہوئے اور فرمایا: میں نے تمہیں پہلے حکم دیا تھا کہ تین دن سے زیادہ قربانی کا گوشت نہ کھاؤ تاکہ تم سب کو پورا ہو جائے اب میں تمہیں اس کی اجازت دیتا ہوں اب جب تک چاہو کھا سکتے ہواور فرمایا کہ ہدی اور قربانی کے جانور کا گوشت مت بیچو خود کھاؤ یا صدقہ کر دو اور اس کی کھال سے بھی فائدہ اٹھا سکتے ہواگر تم کسی کو ان کا گوشت کھلا سکتے ہو تو خود بھی جب تک چاہو کھا سکتے ہو۔ [مسند احمد/مسنَدِ المَدَنِیِّینَ رَضِیَ اللَّه عَنهم اَجمَعِینَ/حدیث: 16211]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف، ابن جريج مدلس وقد عنعن، وزبيد لم يلق أحدة من الصحابة فهو منقطع
الحكم: إسناده ضعيف، ابن جريج مدلس وقد عنعن، وزبيد لم يلق أحدة من الصحابة فهو منقطع
← پچھلی حدیث (16210) باب پر واپس اگلی حدیث (16212) →