عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَكْرٍ السَّهْمِيُّ ، حَاتِمُ بْنُ أَبِي صَغِيرَةَ ، النُّعْمَانِ بْنِ سَالِمٍ ، عَمْرَو بْنَ أَوْسٍ ، أَوْسًا
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَكْرٍ السَّهْمِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ أَبِي صَغِيرَةَ ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ سَالِمٍ ، أَنَّ عَمْرَو بْنَ أَوْسٍ أَخْبَرَهُ، أَنَّ أَبَاهُ أَوْسًا أَخْبَرَهُ، قَالَ: إِنَّا لَقُعُودٌ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الصُّفَّةِ وَهُوَ يَقُصُّ عَلَيْنَا وَيُذَكِّرُنَا إِذْ جَاءَ رَجُلٌ، فَسَارَّهُ، فَقَالَ:" اذْهَبُوا فَاقْتُلُوهُ"، قَالَ: فَلَمَّا وَلَّى الرَّجُلُ، دَعَاهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" أَيَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ"، قَالَ الرَّجُلُ: نَعَمْ، نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَقَالَ:" اذْهَبُوا فَخَلُّوا سَبِيلَهُ، فَإِنَّمَا أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّى يَشْهَدُوا أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، فَإِذَا فَعَلُوا ذَلِكَ حُرِّمَتْ عَلَيَّ دِمَاؤُهُمْ وَأَمْوَالُهُمْ إِلَّا بِحَقِّهَا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا اوس سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ صفہ پر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہمیں وعظ و نصیحت فرما رہے تھے کہ ایک آدمی آ کر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے سرگوشی کرنے لگا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جا کر اسے قتل کر دو پھر فرمایا: کیا وہ لا الہ الاللہ کی گواہی نہیں دیتا اس نے کہا کیوں نہیں لیکن وہ اپنی جان بچانے کے لئے یہ کلمہ پڑھتا ہے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اسے چھوڑ دو مجھے لوگوں سے اس وقت تک قتال کا حکم دیا گیا ہے جب تک وہ لا الہ الا اللہ نہ کہہ لیں جب وہ یہ جملہ کہہ لیں تو ان کی جان ومال محترم ہو گئے سوائے اس کلمہ حق کے۔ [مسند احمد/مسنَدِ المَدَنِیِّینَ رَضِیَ اللَّه عَنهم اَجمَعِینَ/حدیث: 16163]
الحكم: إسناده صحيح