يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ ، مُوسَى ، مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ ، أَبِيهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ , حَدَّثَنَا مُوسَى ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: كُنَّا جُلُوسًا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَالَ:" أَيَعْجِزُ أَحَدُكُمْ أَنْ يَكْسِبَ كُلَّ يَوْمٍ أَلْفَ حَسَنَةٍ؟"، فَسَأَلَهُ سَائِلٌ مِنْ جُلَسَائِهِ , كَيْفَ يَكْسِبُ أَحَدُنَا، يَا رَسُولَ اللَّهِ، كُلَّ يَوْمٍ أَلْفَ حَسَنَةٍ؟ قَالَ:" يُسَبِّحُ مِائَةَ تَسْبِيحَةٍ، فَيُكْتَبُ لَهُ أَلْفُ حَسَنَةٍ، أَوْ يُحَطُّ عَنْهُ أَلْفُ خَطِيئَةٍ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا سعد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے مخاطب ہو کر فرمایا: ”کیا تم میں سے کوئی شخص اس بات سے عاجز ہے کہ دن میں ایک ہزار نیکیاں کما لے؟“ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: یا رسول اللہ! اس کی طاقت کس میں ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”سو مرتبہ «سُبْحَانَ اللّٰهِ» کہہ لیا کرے، اس کے نامہ اعمال میں ایک ہزار نیکیاں لکھ دی جائیں گی اور ایک ہزار گناہ مٹا دئیے جائیں گے۔“ [مسند احمد/مُسْنَدُ بَاقِي الْعَشَرَةِ الْمُبَشَّرِينَ بِالْجَنَّةِ/حدیث: 1613]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح كسابقه.
الحكم: إسناده صحيح كسابقه.