مُوسَى بْنُ دَاوُدَ ، نَافِعٌ يَعْنِي ابْنَ عُمَرَ ، ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، ابْنُ الزُّبَيْرِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ دَاوُدَ ، حَدَّثَنَا نَافِعٌ يَعْنِي ابْنَ عُمَرَ ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، فَقَالَ ابْنُ الزُّبَيْرِ فَمَا كَانَ عُمَرُ" يَسْمَعُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ هَذِهِ الْآيَةِ حَتَّى يَسْتَفْهِمَهُ يَعْنِي قَوْلَهُ تَعَالَى لا تَرْفَعُوا أَصْوَاتَكُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِيِّ سورة الحجرات آية 2".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا عبداللہ بن زبیر کہتے ہیں کہ آیت قرآنی اپنی آوازوں کو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی آوازوں سے اونچا نہ کیا کر و کے نزول کے بعد سیدنا عمر جب بھی نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے کوئی بات کرتے تو اتنی پست آواز سے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو دوبارہ پوچھنا پڑتا۔ [مسند احمد/مسنَدِ المَدَنِیِّینَ رَضِیَ اللَّه عَنهم اَجمَعِینَ/حدیث: 16106]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 4367
الحكم: إسناده صحيح، خ: 4367