بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

مسند احمد

حدیث نمبر: 16027
کتب مسند احمد ابواب باب حدیث 16027
حدیث نمبر: 16027 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
سَعِيدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْقُرَشِيُّ ، أَبِي ، ابْنِ إِسْحَاقَ ، حُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، رَبِيعَةَ بْنِ عَبَّادٍ الدُؤَلِيِّ ، وَعَمَّنْ ، زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، رَبِيعَةَ بْنِ عَبَّادٍ
(حديث مرفوع) قَالَ عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ: حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْقُرَشِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ ، قَالَ: حَدَّثَنِي حُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ عَبَّادٍ الدُؤَلِيِّ , وَعَمَّنْ حَدَّثَهُ , عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ عَبَّادٍ ، قَالَ: وَاللَّهِ إِنِّي لَأَذْكُرُهُ يَطُوفُ عَلَى الْمَنَازِلِ بِمِنًى، وَأَنَا مَعَ أَبِي غُلَامٌ شَابٌّ، وَوَرَاءَهُ رَجُلٌ حَسَنُ الْوَجْهِ، أَحْوَلُ ذُو غَدِيرَتَيْنِ، فَلَمَّا وَقَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى قَوْمٍ، قَالَ:" أَنَا رَسُولُ اللَّهِ يَأْمُرُكُمْ، أَنْ تَعْبُدُوهُ وَلَا تُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا" , وَيَقُولُ الَّذِي خَلْفَهُ: إِنَّ هَذَا يَدْعُوكُمْ إِلَى أَنْ تُفَارِقُوا دِينَ آبَائِكُمْ، وَأَنْ تَسْلُخُوا اللَّاتَ وَالْعُزَّى وَحُلَفَاءَكُمْ مِنْ بَنِي مَالِكِ بْنِ أُقَيْشٍ إِلَى مَا جَاءَ بِهِ مِنَ الْبِدْعَةِ وَالضَّلَالِ , قَالَ: فَقُلْتُ لِأَبِي: مَنْ هَذَا؟ قَالَ: هَذَا عَمُّهُ أَبُو لَهَبٍ عَبْدُ الْعُزَّى بْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ربیعہ سے مروی ہے کہ میں نے نوجوانی میں اپنے والد کے ساتھ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو ذی المجاز نامی بازار میں لوگوں کے مختلف قبیلوں میں جاجا کر ان کے سامنے اپنی دعوت پیش کرتے ہوئے دیکھا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پیچھے ایک بھینگا آدمی بھی تھا اس کی رنگت اجلی اور بال لمبے تھے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ایک قبیلے کے پاس جا کر رکتے اور فرماتے اے بنی فلاں میں تمہاری طرف اللہ کا پیغمبر ہوں میں تمہیں حکم دیتا ہوں کہ اللہ کی عبادت کر و اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ میری تصدیق کر و اور میری حفاظت کر وتا کہ اللہ کا پیغام پہنچاسکوں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب اپنی بات سے فارغ ہوتے تو وہ آدمی پیچھے سے کہتا اے بنوفلاں یہ شخص چاہتا کہ تم سے لات عزی اور تمہارے حلیف قبیلوں کو چھڑا دے اور اپنے نوایجاد دین کی طرف تمہیں لے جائے اس لئے تم اس کی بات نہ سننا اور نہ اس کی پیروی کرنا میں نے اپنے والد سے پوچھا کہ یہ پیچھے والا بھینگا آدمی کون ہے لوگوں نے بتایا کہ یہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا چچا ابولہب ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المَكِّیِّینَ/حدیث: 16027]
حکم دارالسلام
(إسناداه ضعيفان، فى الإسناد الأول حيسن بن عبدالله وهو ضعيف، وفي الثاني رجل لم يسم) إن كان هو سعيد بن سلمة وهو ضعيف أيضا
الحكم: (إسناداه ضعيفان، فى الإسناد الأول حيسن بن عبدالله وهو ضعيف، وفي الثاني رجل لم يسم) إن كان هو سعيد بن سلمة وهو ضعيف أيضا
← پچھلی حدیث (16026) باب پر واپس اگلی حدیث (16028) →