بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

مسند احمد

حدیث نمبر: 16013
کتب مسند احمد ابواب باب حدیث 16013
حدیث نمبر: 16013 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
أَبُو النَّضْرِ ، أَبُو جَعْفَرٍ يَعْنِي الرَّازِيَّ ، يَزِيْدَ بْنِ أَبِي مَالِكٍ ، أَبُو سِبَاعٍ ، وَاثِلَةَ بْنِ الْأَسْقَعِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ يَعْنِي الرَّازِيَّ ، عَنْ يَزِيْدَ بْنِ أَبِي مَالِكٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو سِبَاعٍ ، قَالَ: اشْتَرَيْتُ نَاقَةً مِنْ دَارِ وَاثِلَةَ بْنِ الْأَسْقَعِ ، فَلَمَّا خَرَجْتُ بِهَا أَدْرَكَنَا وَاثِلَةُ وَهُوَ يَجُرُّ رِدَاءَهُ، فَقَالَ: يَا عَبَد اللَّهِ اشْتَرَيْتَ؟ قُلْتُ: نَعَمْ , قَالَ: هَلْ بَيَّنَ لَكَ مَا فِيهَا؟ قُلْتُ: وَمَا فِيهَا؟ قَالَ: إِنَّهَا لَسَمِينَةٌ ظَاهِرَةُ الصِّحَّةِ! قَالَ: فَقَالَ أَرَدْتَ بِهَا سَفَرًا أَمْ أَرَدْتَ بِهَا لَحْمًا؟ قُلْتُ: بَلْ أَرَدْتُ عَلَيْهَا الْحَجَّ , قَالَ: فَإِنَّ بِخُفِّهَا نَقْبًا , قَالَ: فَقَالَ صَاحِبُهَا: أَصْلَحَكَ اللَّهُ مَا تُرِيدَ إِلى هَذَا تُفْسِدُ عَلَيَّ؟! قَالَ: إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" لَا يَحِلُّ لِأَحَدٍ يَبِيعُ شَيْئًا إِلَّا يُبَيِّنُ مَا فِيهِ، وَلَا يَحِلُّ لِمَنْ يَعْلَمُ ذَلِكَ إِلَّا يُبَيِّنُهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابوسباع کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے سیدنا واثلہ کے گھر سے ایک اونٹنی خریدی میں جب اس اونٹنی کو لے کر نکلنے لگا تو مجھے سیدنا واثلہ مل گئے وہ اپنی چادر کھینچتے ہوئے چلے آ رہے تھے انہوں نے مجھ سے پوچھا کہ بندہ اللہ کیا تم نے اسے خرید لیا ہے میں نے کہا جی ہاں انہوں نے پوچھا: کیا انہوں نے تمہیں اس کے متعلق سب کچھ بتادیا ہے میں نے کہا کہ سب کچھ سے کیا مراد ہے انہوں نے فرمایا کہ یہ خوب صحت مند جو نظر بھی آرہا ہے یہ بتاؤ تم اس پر سفر کرنا چاہتے ہو یا ذبح کر کے گوشت حاصل کرنا چاہتے ہو میں نے عرض کیا: میں اس پر حج کے لئے جانا چاہتا ہوں وہ کہنے لگے کہ پھر اس کے کھر میں ایک سوراخ ہے اس پر اونٹنی کا مالک کہنے لگا اللہ آپ کے حال پر رحم کر ے کیا آپ میرا سوداخراب کرنا چاہتے ہیں انہوں نے فرمایا: میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کسی آدمی کے لئے یہ بات جائز نہیں کہ وہ کسی چیز کو بیچے اور اس میں عیب نہ کر ے اور جو اس عیب کو جانتا ہواس کے لئے بھی حلال نہیں ہے کہ اسے بیان نہ کر ے۔ [مسند احمد/مسنَد المَكِّیِّینَ/حدیث: 16013]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لجهالة أبى سباع
الحكم: إسناده ضعيف لجهالة أبى سباع
← پچھلی حدیث (16012) باب پر واپس اگلی حدیث (16014) →