هَاشِمٌ ، أَبُو فَضَالَةَ الْفَرَجُ ، أَبُو سَعْدٍ ، وَاثِلَةَ بْنَ الْأَسْقَعِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هَاشِمٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو فَضَالَةَ الْفَرَجُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو سَعْدٍ ، قَالَ: رَأَيْتُ وَاثِلَةَ بْنَ الْأَسْقَعِ " يُصَلِّي فِي مَسْجِدِ دِمَشْقَ، فَبَزَقَ تَحْتَ رِجْلِهِ الْيُسْرَى، ثُمَّ عَرَكَهَا بِرِجْلِهِ، فَلَمَّا انْصَرَفَ، قُلْتُ: أَنْتَ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَبْزُقُ فِي الْمَسْجِدِ؟ قَالَ: هَكَذَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَفْعَلُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابوسعد کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے دمشق کی مسجد میں سیدنا واثلہ کو نماز پڑھنے کے دوران دیکھا کہ انہوں نے بائیں پاؤں نیچے تھوک پھینکا اور اپنے پاؤں سے اسے مسل دیا جب وہ نماز سے فارغ ہوئے تو میں نے ان سے عرض کیا: کہ آپ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے صحابی ہیں پھر بھی مسجد میں تھوک پھینکتے ہیں انہوں نے فرمایا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو اسی طرح کرتے ہوئے دیکھا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المَكِّیِّینَ/حدیث: 16009]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف أبى فضالة، ولجهالة أبى سعد
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف أبى فضالة، ولجهالة أبى سعد