عَتَّابٌ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ ، ابْنُ لَهِيعَةَ ، يَزِيدُ يَعْنِي ابْنَ أَبِي حَبِيبٍ ، رَبِيعَةَ بْنَ يَزِيدَ الدِّمَشْقِيَّ ، وَاثِلَةَ يَعْنِي ابْنَ الْأَسْقَعِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَتَّابٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنِي يَزِيدُ يَعْنِي ابْنَ أَبِي حَبِيبٍ ، أَنَّ رَبِيعَةَ بْنَ يَزِيدَ الدِّمَشْقِيَّ أَخْبَرَهُ، عَنْ وَاثِلَةَ يَعْنِي ابْنَ الْأَسْقَعِ ، قَالَ: كُنْتُ مِنْ أَهْلِ الصُّفَّةِ، فَدَعَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا بِقُرْصٍ، فَكَسَرَهُ فِي الْقَصْعَةِ، وَصَنَعَ فِيهَا مَاءً سُخْنًا، ثُمَّ صَنَعَ فِيهَا وَدَكًا، ثُمَّ سَفْسَفَهَا، ثُمَّ لَبَّقَهَا، ثُمَّ صَعْنَبَهَا، ثُمَّ قَالَ:" اذْهَبْ فَأْتِنِي بِعَشَرَةٍ أَنْتَ عَاشِرُهُمْ"، فَجِئْتُ بِهِمْ، فَقَالَ:" كُلُوا، وَكُلُوا مِنْ أَسْفَلِهَا، وَلَا تَأْكُلُوا مِنْ أَعْلَاهَا، فَإِنَّ الْبَرَكَةَ تَنْزِلُ مِنْ أَعْلَاهَا"، فَأَكَلُوا مِنْهَا حَتَّى شَبِعُوا.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا واثلہ سے مروی ہے کہ میں اصحاب صفہ میں سے تھا کہ ایک دن نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک روٹی منگوائی پیالے میں رکھ کر اس کے ٹکڑے کئے ان میں پہلے رکھا ہوا پانی ڈالا پھر وہ پانی اس میں ملا کر اسے ہلانے لگے پھر اسے نرم کر کے فرمایا: جاؤ دس آدمیوں کو میرے پاس لاؤ جن میں سے دسویں تم خود ہو گے میں بلالایا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: کھاؤ اور نیچے سے کھانا اوپر سے نہ کھانا کیونکہ اوپر کے حصے میں برکت نازل ہو تی ہے چنانچہ ان سب نے وہ کھانا کھایا اور سیراب ہو گئے۔ [مسند احمد/مسنَد المَكِّیِّینَ/حدیث: 16006]
الحكم: إسناده حسن