عَفَّانُ ، أَبَانُ الْعَطَّارُ ، قَتَادَةُ ، شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ، أَبِي عُبَيْدٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا أَبَانُ الْعَطَّارُ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ، عَنْ أَبِي عُبَيْدٍ أَنَّهُ طَبَخَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قِدْرًا فِيهِ لَحْمٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" نَاوِلْنِي ذِرَاعَهَا" , فَنَاوَلْتُهُ فَقَالَ:" نَاوِلْنِي ذِرَاعَهَا" , فَنَاوَلْتُهُ فَقَالَ:" نَاوِلْنِي ذِرَاعَهَا" , فَقَالَ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، كَمْ لِلشَّاةِ مِنْ ذِرَاعٍ؟ قَالَ:" وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، لَوْ سَكَتَّ لَأَعْطَتْكَ ذِرَاعًا مَا دَعَوْتَ بِهِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابوعبید سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے لئے ایک ہنڈیا میں گوشت پکایا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: مجھے اس کی دستی نکال کر دو چنانچہ میں نے نکال کر دی تھوڑی دیر بعد نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے دوسری تیسری طلب فرمائی میں نے وہ بھی دیدی تھوڑی دیر بعد نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پھر طلب فرمائی میں نے عرض کیا: اے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ایک بکری کی کتنی دستیاں ہو تی ہیں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے اگر تم خاموش رہتے تو اس ہنڈیا سے اس وقت تک دستیاں نکلتی رہتیں جب تک تم اسے نکالتے رہتے۔ [مسند احمد/مسنَد المَكِّیِّینَ/حدیث: 15967]
حکم دارالسلام
حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف لضعف شهر بن حوشب
الحكم: حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف لضعف شهر بن حوشب