يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، هِشَامٍ يَعْنِي ابْنَ عُرْوَةَ ، أَبِي ، الْأَحْنَفِ بْنِ قَيْسٍ ، جَارِيَةُ بْنُ قُدَامَةَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ هِشَامٍ يَعْنِي ابْنَ عُرْوَةَ , قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبِي ، عَنِ الْأَحْنَفِ بْنِ قَيْسٍ ، عَنْ عَمٍّ لَهُ يُقَالُ لَهُ: جَارِيَةُ بْنُ قُدَامَةَ ، أَنَّ رَجُلًا قَالَ لَهُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، قُلْ لِي قَوْلًا، وَأَقْلِلْ عَلَيَّ لَعَلِّي أَعْقِلُهُ , قَالَ:" لَا تَغْضَبْ" , فَأَعَادَ عَلَيْهِ مِرَارًا، كُلُّ ذَلِكَ يَقُولُ:" لَا تَغْضَبْ". قَالَ يَحْيَى: قَالَ هِشَامٌ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ. وَهُمْ يَقُولُونَ: لَمْ يُدْرِكْ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جاریہ بن قدامہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ایک شخص نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا: یا رسول اللہ! مجھے کوئی مختصر نصیحت فرمادیجیے شاید میری عقل میں آ جائے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: غصہ نہ کیا کر و اس نے کئی مرتبہ اپنی درخواست دہرائی اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہر مرتبہ یہی جواب دیا کہ غصہ نہ کیا کر و۔ [مسند احمد/مسنَد المَكِّیِّینَ/حدیث: 15964]
الحكم: إسناده صحيح