يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، أَبِي ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَرْقَمَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبِي , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَرْقَمَ ، أَنَّهُ حَجَّ، فَكَانَ يُصَلِّي بِأَصْحَابِهِ يُؤَذِّنُ وَيُقِيمُ، فَأَقَامَ يَوْمًا الصَّلَاةَ، وَقَالَ: لِيُصَلِّ أَحَدُكُمْ، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" إِذَا أَرَادَ أَحَدُكُمْ أَنْ يَذْهَبَ إِلَى الْخَلَاءِ وَأُقِيمَتْ الصَّلَاةُ، فَلْيَذْهَبْ إِلَى الْخَلَاءِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا عبداللہ بن ارقم ایک مرتبہ حج پر گئے وہ خود ہی اپنے ساتھیوں کو نماز پڑھاتے اور اذان دیتے اور اقامت کہتے تھے ایک دن اقامت کہنے لگے تو فرمایا کہ تم میں سے کوئی شخص آگے بڑھ کر نماز پڑھا دے کیونکہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اگر نماز کھڑی ہو جائے اور تم میں سے کوئی شخص بیت الخلاء جانے کی ضرورت محسوس کر ے تو اسے چاہیے کہ بیت الخلا پہلے جائے۔ [مسند احمد/مسنَد المَكِّیِّینَ/حدیث: 15959]
الحكم: إسناده صحيح