إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، الْجُرَيْرِيِّ ، أَبِي الْعَلَاءِ بْنِ الشِّخِّيرِ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ صُحَارٍ الْعَبْدِيِّ ، أَبِيهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، عَنِ الْجُرَيْرِيِّ ، عَنْ أَبِي الْعَلَاءِ بْنِ الشِّخِّيرِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ صُحَارٍ الْعَبْدِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يُخْسَفَ بِقَبَائِلَ، فَيُقَالُ: مَنْ بَقِيَ مِنْ بَنِي فُلَانٍ"، قَالَ: فَعَرَفْتُ حِينَ قَالَ: قَبَائِلَ أَنَّهَا الْعَرَبُ، لِأَنَّ الْعَجَمَ تُنْسَبُ إِلَى قُرَاهَا.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا صحار عبدی سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: قیامت اس وقت تک قائم نہ ہو گی جب تک کچھ قبائل کو زمین میں دھنسا نہ دیا جائے اور لوگ پوچھنے لگیں فلاں قبیلے میں سے کتنے لوگ باقی بچے ہیں میں نے جب نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو قبائل کا ذکر کرتے ہوئے سنا تو میں سمجھ گیا کہ اس سے مراد اہل عرب ہیں کیونکہ عجمیوں کو ان کے شہروں کی طرف منسوب کیا جاتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المَكِّیِّینَ/حدیث: 15956]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف، عبدالرحمن بن صحار مجهول
الحكم: إسناده ضعيف، عبدالرحمن بن صحار مجهول